ویب ڈیسک: معروف مذہبی اسکالر، نعت خواں اور ہر دلعزیز شخصیت جنید جمشید کی دوسری اہلیہ رضیہ جنید نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جس میں انہوں نے جنید جمشید کی زندگی، ان کے آخری سفر اور حادثے سے قبل کی کیفیت پر روشنی ڈالی۔
ان کے انکشافات نے جنید جمشید کے مداحوں کو ایک بار پھر غمزدہ کر دیا۔رضیہ جنید نے بتایا کہ جنید جمشید کا زیادہ تر وقت سفر، بالخصوص فضائی سفر میں گزرتا تھا۔ ان کے مطابق، چترال کا سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔ رضیہ نے کہا کہ اس سفر سے قبل جنید جمشید کچھ اداس اور بے چین محسوس ہو رہے تھے، جیسا کہ انہیں کسی روحانی انداز میں کچھ محسوس ہو رہا ہو۔انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ سے واپسی کے فوراً بعد چترال روانہ ہوئے تھے اور ابتدائی طور پر 5 سے 6 دن کا پلان تھا، مگر ان کا قیام 10 دن طویل ہو گیا۔ اس دوران وہ نیٹ ورک کی دستیابی کی وجہ سے مسلسل اپنے گھر والوں کو پیغامات کے ذریعے خیریت سے آگاہ کرتے رہے۔رضیہ جنید نے بتایا کہ عدت مکمل ہونے کے بعد وہ جائے حادثہ پر گئیں تاکہ اس مقام کو دیکھ سکیں جہاں ان کے شوہر کی زندگی کا اختتام ہوا۔ اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئیں۔انہوں نے حادثے کی اطلاع ملنے کا منظر یاد کرتے ہوئے کہا کہ جنید جمشید کے مینیجر کی کال آئی، جس میں اس نے بتایا کہ وہ ایبٹ آباد جارہا ہے کیونکہ "جنید بھائی کا طیارہ لاپتہ ہو گیا ہے"۔
رضیہ نے فوری طور پر اپنے بیٹے سے کہا کہ لیپ ٹاپ پر کوئی خبر چیک کرے، اور کچھ ہی دیر بعد بیٹے نے بتایا کہ "طیارہ حویلیاں کے مقام پر گر کر تباہ ہو گیا ہے"۔رضیہ نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں یہ خبر ملی، سکتہ طاری ہو گیا۔ ان کا ذہن کچھ سمجھنے سے قاصر تھا، فون کی گھنٹیاں بج رہی تھیں، لوگ ان کے گھر پہنچنا شروع ہو چکے تھے، لیکن وہ سب کچھ جیسے دھند میں سن رہی تھیں۔واضح رہے کہ جنید جمشید 7 دسمبر 2016 کو پی آئی اے کی پرواز PK-661 کے حادثے میں شہید ہو گئے تھے۔ ان کی وفات نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا اور آج بھی وہ لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں۔رضیہ جنید کی یہ گفتگو جنید جمشید کے چاہنے والوں کے لیے ایک جذباتی جھروکا کھولتی ہے، جس سے ان کی آخری ایام کی کیفیت اور ان کے گھر والوں کے درد کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔