ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ "سیاستدان کو الیکشن اور موت کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔"
انہوں نے یہ بات اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہی، جہاں وہ عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر توہین عدالت کیس کے مقرر نہ ہونے کے خلاف درخواست کی پیروی کے لیے پہنچے تھے۔
ملاقات کی درخواست تاحال مقرر نہیں
عمر ایوب نے بتایا کہ انہوں نے دو دن قبل عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جس پر دائری نمبر لگ چکا ہے مگر کیس تاحال فکس نہیں ہوا۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ ماضی میں بھی جب یہ کیسز عدالت میں لگے تھے تو اس کے بعد پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں ممکن ہوئی تھیں اور "اس وقت زمین آسمان ایک نہیں ہوا تھا۔"
عمران خان اور پارٹی قیادت کو "سیاسی قیدی" قرار
عمر ایوب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں کو "سیاسی قیدی" قرار دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "میرے خلاف بسکٹ چوری جیسے مقدمات بھی بنا دیے گئے ہیں۔" ان کا مؤقف تھا کہ وہ اور ان کی جماعت انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔
ریاست، آئین اور قانون پر تنقید
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں پاکستان ایک "ہارڈ اسٹیٹ" نہیں بلکہ "جنگل کا قانون" رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہاں قانون کی حکمرانی ہی نہیں۔" عمر ایوب نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا: "عقل کے اندھوں سے کہتا ہوں کہ آئین پڑھ لیں تاکہ پتہ چلے کہ ریاست کس چیز کا نام ہے۔"
بہنوں کی سیاست میں شمولیت پر اعتراض
عمر ایوب نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کو سیاست میں گھسیٹنا غیر مناسب ہے، کیونکہ وہ صرف بطور اہل خانہ ملاقات کے لیے آتی ہیں، سیاسی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عمران خان نہ تو "ڈھیل" مانتے ہیں اور نہ ہی کسی "ڈیل" کو تسلیم کرتے ہیں۔
استعفیٰ کی افواہوں کی تردید
آخر میں عمر ایوب نے اپنے استعفیٰ کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "پی ڈی ایم حکومت میں ہم نے دھاندلی کیسے کر لی؟ میرے مقابلے میں امیدوار ہار مان چکے ہیں، مگر ریموٹ کنٹرول والوں کو سکون نہیں۔"عمر ایوب کی اس جارحانہ گفتگو سے نہ صرف ان کی قانونی جدوجہد کا پتا چلتا ہے بلکہ یہ پی ٹی آئی کے بیانیے کی تسلسل کا حصہ بھی معلوم ہوتی ہے، جو اس وقت عمران خان کی رہائی اور سیاسی کردار کی بحالی کے گرد گھوم رہا ہے۔