اسلام آباد ہائیکورٹ نے این اے 18 ہری پور الیکشن دھاندلی کیس کے خلاف عمر ایوب کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے جاری کیے گئے اس 6 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ عمر ایوب کی درخواست اس عدالت کے سامنے قابل سماعت نہیں ہے اور وہ کیس کے میرٹ پر کوئی فیصلہ نہیں دے رہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عمر ایوب کے خلاف درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے اور فریقین کو سن کر کارروائی کو آگے بڑھائے۔ عدالت نے جولائی 2024 سے جاری حکم امتناع کو ختم کر دیا ہے، جو عمر ایوب کی درخواست پر الیکشن کمیشن کی کارروائی روکنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کی رائے میں یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے اور اگر درخواست گزار اس فیصلے سے متاثر ہوں تو وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ فریقین کو مکمل سماعت کا حق دے کر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے، اور فیصلے کی کاپی الیکشن کمیشن کو بھی بھیجنے کا حکم دیا تاکہ وہ نوٹس جاری کر کے کارروائی کو آگے بڑھا سکے۔عمر ایوب نے دھاندلی کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کے 10 جولائی کے آرڈر کو چیلنج کیا تھا، جس پر عدالت نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی کارروائی روک دی تھی۔ عمر ایوب کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن نے درخواست پر 60 دنوں میں فیصلہ کرنا تھا اور ان کے مطابق 60 دن گزرنے کے بعد الیکشن کمیشن کی کارروائی غیر قانونی ہے۔واضح رہے کہ این اے 18 ہری پور میں عمر ایوب کے مخالف امیدوار نے دھاندلی کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔