چیف الیکشن کمشنر کے نام بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد دیں گے:عمر ایوب

چیف الیکشن کمشنر کے نام بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد دیں گے:عمر ایوب

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کے تقرر کے حوالے سے حتمی نام بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مشاورت کے بعد دیے جائیں گے۔

وزیرِاعظم سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی: عمر ایوب
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے واضح کیا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ اس معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ان کے مطابق، اپوزیشن قیادت آج رات یا کل تک چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے حتمی ناموں پر مشاورت مکمل کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن 4 یا 5 نام تجویز کرے گی، جن پر غور جاری ہے۔
وزیرِاعظم کی مکمل خاموشی
اپوزیشن لیڈر نے دعویٰ کیا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے اور تاحال حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنی نامزدگیاں مکمل کر کے حکومت کے ساتھ معاملہ طے کرنے کے لیے تیار ہے، مگر اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا جا رہا۔
آئینی تقاضا اور متوقع پیش رفت
پاکستان کے آئین کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے تقرر کے لیے وزیرِاعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت ضروری ہے۔اگر دونوں فریق کسی نام پر اتفاق نہ کریں تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نام بانی پی ٹی آئی سے حتمی مشاورت کے بعد دیں گے، جس کے بعد حکومت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا جائے گا۔
سیاسی منظرنامہ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، اور پارٹی کے کئی رہنما قانونی مسائل اور گرفتاریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔اس صورتحال میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کا تقرر ایک حساس سیاسی معاملہ بن چکا ہے، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کھچاؤ واضح نظر آ رہا ہے۔
اگلے اقدامات
اپوزیشن قیادت آئندہ 24 گھنٹوں میں مشاورت مکمل کر کے اپنے نام فائنل کرے گی۔حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل نہ آیا تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کا سبب بن سکتا ہے۔اگر وزیرِاعظم اور اپوزیشن لیڈر کسی ایک نام پر متفق نہ ہوئے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں چلا جائے گا، جہاں مزید سیاسی چپقلش کا امکان موجود ہے۔یہ معاملہ نہ صرف آئندہ عام انتخابات بلکہ مجموعی سیاسی استحکام کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔