ویب ڈیسک:ملک بھر میں گرمی کی شدت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، اور ایسے میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق سخت گرمی میں جسم کا درجہ حرارت اس حد تک بڑھ سکتا ہے کہ انسان بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ نہ صرف پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے بلکہ چند اہم قدرتی اور گھریلو تدابیر اختیار کر کے خود کو محفوظ رکھا جائے۔
زیادہ پانی والی غذائیں
گرمیوں میں خربوزہ، تربوز، کھیرا اور دہی جیسے غذائیں جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ نہ صرف جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتی ہیں بلکہ قدرتی طور پر ٹھنڈک پہنچاتی ہیں۔
درست لباس اور سن پروٹیکشن
گرمی میں باہر نکلتے وقت ٹوپی، سن گلاسز یا چھتری کا استعمال کریں۔ ہلکے رنگوں کے کاٹن یا لینن کے کھلے کپڑے پہننا جسمانی درجہ حرارت کو بڑھنے سے بچاتا ہے۔
ایلو ویرا
ایلو ویرا جیل جلد پر لگانے سے فوری ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے، اور اگر فریج میں رکھ کر لگایا جائے تو اثر مزید بڑھ جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، دو چمچ ایلو ویرا جیل ایک کپ پانی میں ملا کر پینا بھی فائدہ مند ہے۔
چھاچھ
چھاچھ نہ صرف جسم کو ٹھنڈا کرتی ہے بلکہ اس میں موجود پرو بائیوٹیکس، وٹامنز اور منرلز جسمانی توانائی بحال کرتے ہیں، جو گرمی کے باعث کمزور محسوس ہونے کی صورت میں نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔
میتھی دانے کی چائے
میتھی دانے کی چائے پسینے کے اخراج کو بڑھاتی ہے، جو کہ جسم کو اندر سے ٹھنڈا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر گرم چائے پسند نہیں تو اسے ٹھنڈا کر کے پینا بھی مؤثر ہے۔
مرچوں کا فائدہ
اگرچہ یہ حیران کن لگے، مگر مرچوں سے بھرپور غذا پسینہ زیادہ لاتی ہے، جس سے جسم ٹھنڈا ہوتا ہے۔ مرچوں میں موجود کیمیکل دماغ کو "گرمی" کا سگنل دیتے ہیں جس سے جسم قدرتی طور پر خود کو ٹھنڈا کرتا ہے۔
پیروں کو ٹھنڈا کریں
ایک بالٹی میں ٹھنڈا پانی اور برف ڈال کر کچھ وقت کے لیے پیر ڈبونا بھی جسمانی درجہ حرارت کم کرنے کا مؤثر طریقہ ہے۔ اس میں پودینے کے تیل کے چند قطرے شامل کرنے سے اثر دوگنا ہو جاتا ہے۔
ناریل پانی
ناریل کا پانی الیکٹرولائٹس اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کو ری ہائیڈریٹ کرنے اور توانائی بحال کرنے میں نہایت مددگار ہے۔
پودینے کی چائے
پودینے میں موجود مینتھول جسم کو ٹھنڈک فراہم کرتا ہے۔ چاہے گرم پودینے کی چائے ہو یا ٹھنڈی، دن میں کئی مرتبہ پینا گرمی کے اثر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
احتیاط بہت ضروری!
اگر ان تمام تدابیر کے باوجود جسمانی درجہ حرارت کم نہ ہو یا طبیعت خراب ہونے لگے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بچوں، حاملہ خواتین، بزرگ افراد اور مریضوں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ ان میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔