مودی حکومت نے ہندو اور سکھ یاتریوں کو بھی مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے پاکستان آنے سے روک دیا، جس پر پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی (PSGPC) کے سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بھارتی اقدام کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہر سال بھارت سے تقریباً 3 ہزار سکھ یاتری بابا گرو نانک کے جنم دن سمیت دیگر مذہبی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ اس سال جون میں 2,500 سکھ یاتری بھارت سے پاکستان نہیں آ سکے۔ 4 نومبر کو بابا گرو نانک کی 486ویں برسی کے موقع پر بھی بھارتی حکومت نے سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی۔وزیر مملکت مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی نے کہا کہ کرتارپور میں بابا گرو نانک کی برسی کی تقریبات آج سے شروع ہیں، لیکن مودی حکومت نے سکھ یاتریوں کی آمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
PSGPC نے بھارتی فیصلے کے خلاف اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں بھارتی اقدام پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا گیا اور متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی عالمی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور عالمی برادری سکھوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے پر بھارت کو جوابدہ بنائے۔PSGPC کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دروازے سکھ برادری کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، لیکن بھارتی حکومت اپنے شہریوں کو بنیادی مذہبی حق سے محروم کر رہی ہے۔