لاہور: سکھوں کے مذہبی تہوار وساکھی میلہ اور خالصہ جنم دن پر اس سال بھارت سے پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اس سال تقریباً سات ہزار سکھ یاتری بھارت سے پاکستان آئیں گے، جو پاک بھارت باہمی معاہدے کے تحت متوقع تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔خالصہ جنم دن کی 326ویں سالگرہ اور وساکھی میلہ کی تقریبات کے دوران سکھ یاتری 10 اپریل کو پاکستان پہنچیں گے، جبکہ ان یاتریوں کا ویزہ 10 سے 19 اپریل تک جاری کیا جائے گا۔ بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتری اس میلے میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے۔متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام کے مطابق پاکستان ہائی کمیشن نیو دہلی سے درخواست کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے جائیں۔ حکام نے مزید کہا کہ پاکستان سکھوں کا دوسرا گھر ہے اور یہاں آنے والے تمام یاتریوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز سیف اللہ کھوکھر نے کہا کہ حکومت پاکستان اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی کوششوں سے مذہبی سیاحت کو فروغ مل رہا ہے، اور سکھ یاتریوں کے لیے بہترین انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
سیکیورٹی اداروں، سول انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کو انتظامات بڑھانے کے لیے سرکلر جاری کر دیا گیا ہے۔بھارتی سکھ یاتری گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں 14 اپریل کو ہونے والی مرکزی تقریب میں شرکت کریں گے اور ساتھ ہی گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب، گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور اور گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور سمیت دیگر مقدس مقامات کی زیارت کریں گے۔اس کے علاوہ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ اور دیگر ممالک سے بھی بڑی تعداد میں سکھ یاتری پاکستان آئیں گے۔