سندھ: سپر فلڈ نے سندھ میں تباہی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
آج شب دریائے سندھ کا سیلابی ریلا دادو میں شدید نقصان کے بعد لاڑکانہ کے سیہون بچاؤ بند سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں دیہات اور سڑکیں زیرِ آب آگئیں۔دادو کے متاثرہ دیہات کی تعداد اب 50 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تحصیل میہڑ سے آنے والا سیلابی ریلا لاڑکانہ کے سیہون بچاؤ بند سے ٹکرا کر مزید نقصان کا باعث بنا۔ اس ٹکراؤ سے کچے کے علاقے نئوں گوٹھ میں پانی داخل ہوگیا اور بنیادی صحت مرکز بھی زیرِ آب آگیا۔
نوشہرو فیروز کے لوپ بند میں شگاف پڑنے کے بعد بکھری کے قریبی گاؤں بھی زیرِ آب آئے، تاہم سندھ کے وزیر آبپاشی جام خان شورو کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے بکھری کے قریب بند مکمل محفوظ ہے اور کہیں شگاف نہیں پڑا۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ ایک لاکھ 85 ہزار 550 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، اور متاثرین کے ساتھ ان کی املاک اور مویشیوں کو بچانا بھی اولین ترجیح ہے۔