عالمی امن کی ضمانت: مشرقِ وسطیٰ کے لیے پاکستان کا سفارتی مشن

یاور مہدی 
۱۔ پس منظر: ایک عالمی بحران
مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ جنگ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ اس جنگ نے جہاں عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہیں دنیا بھر کی افواج کے اندر بھی ایک ذہنی اور اخلاقی بیزاری پیدا کر دی ہے، جہاں سپاہی اس بے مقصد خون ریزی سے اکتا چکے ہیں۔

۲۔ پاکستان کی منفرد حیثیت

پاکستان کی حالیہ امریکی ڈپلومیسی اور ساتھ ہی ایران، عرب ممالک، یورپ، روس اور چین سے متوازن تعلقات ہمیں وہ "اعتبار" دیتے ہیں جو دنیا کی کسی اور طاقت کے پاس نہیں۔ ایک ایٹمی قوت ہونے کے ناطے، پاکستان کی غیر جانبدارانہ آواز میں وہ وزن ہے جو جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتا ہے۔

۳۔ فکری بنیاد: فکرِ اقبال

ہمارا یہ مشن علامہ اقبال کے اس حکم پر مبنی ہے:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

آج "حرم کی پاسبانی" کا مطلب پوری مخلوقِ خداوندی کو تیسری عالمی جنگ کی تباہی سے بچانا ہے۔

۴۔ سہ مرحلہ وار عملی منصوبہ (Peace Roadmap)

مرحلہ ۱: عالمی "آن لائن" امن کانفرنس کا انعقاد
وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے، پاکستان کی میزبانی میں دنیا بھر کے ممالک کی ایک ہنگامی آن لائن کانفرنس بلائی جائے تاکہ ایک فوری "عالمی امن ایجنڈے" پر اتفاق ہو سکے۔

مرحلہ ۲: ایٹمی قوت کی "امن ضمانت" (Peace Guarantee)
پاکستان یہ واضح اعلان کرے کہ ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر وہ کسی بھی ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا جو عالمی تباہی کا باعث بنے۔ یہ اعلان بڑی طاقتوں کو مہم جوئی سے روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

مرحلہ ۳: توانائی کا عالمی تحفظ (Global Energy Security)

اقدام: تیل پیدا کرنے والے ممالک اور اسے خریدنے والے بڑے ممالک کے درمیان ایک طویل مدتی "خرید و فروخت کا محفوظ معاہدہ" طے کرایا جائے۔

مقصد: اس کا مقصد دنیا کو تیل اور گیس کی کمی اور مہنگائی سے نکال کر معاشی سکون فراہم کرنا ہے۔ جب دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی بلا تعطل اور محفوظ ہو جائے گی، تو ملکوں کے درمیان جنگی جنون اور کھنچاؤ خود بخود ختم ہو جائے گا۔

۵۔ حتمی سفارشات: ایک مقدس سفارتی مشن

رمضان المبارک کا یہ بابرکت مہینہ، جس میں پروردگارِ عالم نے اپنے فضلِ خاص سے شر کو قید اور رحمتوں کے دروازے وا کر دیے ہیں، ریاستِ پاکستان کے لیے مخلوقِ خداوندی کو جنگ کی آگ سے بچانے کا بہترین موقع ہے۔ اس مقدس گھڑی میں، جب انسانیت امن کی پیاسی ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے چاہئیں:
"اسٹریٹجک ٹاسک کمیٹی" کا قیام: حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے، جو اس مبارک مہینے کی برکت سے دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت کو "آن لائن عالمی امن کانفرنس" کی دعوت دے۔
امن چارٹر کی منظوری: اس کمیٹی کا ہدف عالمی طاقتوں کو ایک ایسے "امن چارٹر" پر متحد کرنا ہو، جو مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو ختم کر کے دنیا کو معاشی تباہی اور جنگی ہولناکیوں سے نجات دلائے۔

انسانیت کی بقا کا سہرا: یہ قدم نہ صرف پاکستان کی معیشت کو استحکام بخشے گا، بلکہ تاریخِ عالم میں پاکستان کا نام ایک ایسی ریاست کے طور پر سنہری حروف سے لکھوا دے گا جس نے انسانیت کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے نکال کر امن و سکون کی منزل عطا کی۔
دعا:
پروردگارِ عالم ہمارا حامی و ناصر ہو، ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس عظیم مفاہمتی مشن میں کامیابی سے ہمکنار کر کے انسانیت کے لیے سلامتی کا ذریعہ بنائے۔ آمین!
writer can be reached at yawarmehdi@gmail.com