عابد گوندل
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا حالیہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہے بلکہ یہ پورے خطے کی سیاست، معیشت اور سلامتی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ سات دہائیوں پر محیط ہے اور ان تعلقات کی بنیاد اسلامی بھائی چارے، مذہبی وابستگی اور سیاسی تعاون پر رکھی گئی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عالمی اور علاقائی حالات نے ان تعلقات کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پیدا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان کوئی اہم معاہدہ طے پاتا ہے تو اسے عالمی سطح پر خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس نئے معاہدے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ نہ صرف پاکستان کی معاشی مشکلات کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ سعودی عرب کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی تقویت دے گا۔پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی، تجارتی خسارہ، درآمدات پر انحصار اور توانائی کے مسائل نے ملکی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کے ساتھ طے پانے والا یہ معاہدہ امید کی کرن ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو سعودی سرمایہ کاری، تیل کی فراہمی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کی یقین دہانی حاصل ہوئی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سرمایہ کاری سے نہ صرف پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملکی معیشت کو بھی ایک نئی زندگی ملے گی۔ سعودی عرب ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ جب بھی پاکستان کو معاشی دباو? کا سامنا کرنا پڑا، سعودی عرب نے تیل کی سہولتیں، مالی امداد اور قرضوں کی صورت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ موجودہ معاہدہ بھی اسی روایت کی کڑی ہے لیکن اس بار بات صرف وقتی امداد تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں دیرپا تعاون کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔۔ اگر پاکستان اپنی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھے اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے تو یہ معاہدہ ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔عالمی منظرنامے پر بھی اس معاہدے کی اہمیت کم نہیں۔ اس وقت دنیا میں توانائی کے وسائل اور خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے ایک نئی کشمکش جاری ہے۔ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب ایک بڑا کھلاڑی ہے اور پاکستان جنوبی ایشیا میں ایک ایٹمی طاقت کے طور پر اہم حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے لیے مددگار ہیں بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ مسلم ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کا یہ تعاون ایران، ترکی، بھارت اور دیگر ممالک کے لیے بھی ایک واضح اشارہ ہے کہ خطے میں طاقت کے نئے محور وجود میں ا? رہے ہیں۔پاکستان
کے عوام کے لیے بھی یہ معاہدہ حوصلہ افزا ہے۔ عام آدمی اس وقت مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اگر سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں بڑھتی ہیں اور توانائی کے منصوبے مکمل ہوتے ہیں تو اس کا براہ راست فائدہ عوام تک پہنچے گا۔ بجلی کے بحران میں کمی، روزگار کے مواقع اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام عوام کی زندگی کو سہل بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر سعودی عرب پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرے تو پاکستان اپنی زرعی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لا سکتا ہے اور فوڈ سکیورٹی جیسے اہم مسئلے کو بھی حل کیا جا سکتا ہے۔تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ صرف معاہدے کرنے سے ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اصلاحات کر سکے گا یا نہیں؟ ماضی میں پاکستان کو یہ مسئلہ درپیش رہا ہے کہ بڑے بڑے منصوبے اور معاہدے تو کاغذوں پر موجود رہے لیکن ان پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی ہو گئیں۔ کبھی سیاسی عدم استحکام، کبھی بیوروکریسی کی سستی اور کبھی کرپشن نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچایا۔ اس بار اگر پاکستان نے یہ غلطیاں دہرائیں تو سعودی عرب کی دلچسپی بھی کم ہو سکتی ہے اور عوام کی امیدیں بھی ٹوٹ سکتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کی قیادت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاہدے کو قومی مفاد کے لیے بروئے کار لائے اور ہر طرح کی رکاوٹوں کو دور کرے۔ایک اور اہم پہلو دفاعی تعلقات کا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ پاکستانی فوجیوں نے سعودی عرب کی سرزمین پر خدمات انجام دی ہیں اور سعودی افواج کی تربیت میں بھی پاکستان کا کلیدی کردار رہا ہے۔ موجودہ معاہدے میں اگر دفاعی تعاون کے نئے زاویے شامل کیے گئے ہیں تو اس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ خطے میں بدلتے ہوئے حالات میں دفاعی تعاون نہایت ضروری ہے کیونکہ ایک طرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف بھارت اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا اتحاد ان خطرات کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اس معاہدے کو پاکستان کے خارجہ تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا۔ چین کے ساتھ سی پیک منصوبہ، ترکی کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اور اب سعودی عرب کے ساتھ یہ معاہدہ پاکستان کو ایک ایسے مقام پر لا سکتا ہے جہاں وہ خطے میں معاشی اور سیاسی اعتبار سے ایک مضبوط کھلاڑی بن جائے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان متوازن پالیسی اختیار کرے اور کسی ایک بلاک کی طرف جھکائوسے اجتناب کرے۔ سعودی عرب اور چین دونوں ہی پاکستان کے قریبی دوست ہیں، لیکن عالمی سیاست میں بعض اوقات ان کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کو دانشمندی کے ساتھ ایسا راستہ اپنانا ہوگا جو سب کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرے۔آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ بلاشبہ ایک تاریخی قدم ہے۔ اس کی کامیابی پاکستان کی معاشی بحالی، عوامی خوشحالی اور خطے میں طاقت کے توازن کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کامیابی کی شرط یہی ہے کہ پاکستان اندرونی سطح پر اصلاحات کرے، سیاسی استحکام لائے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو یقین دلائے کہ ان کے وسائل محفوظ ہیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو آنے والے برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کا یہ اشتراک نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ یہ مسلم دنیا کے لیے بھی ایک نئی امید کی کرن بن سکتا ہے۔