تصور حسین شہزاد
افرادی قوت کے لحاظ سے بھارت کی فوج پاکستان سے 4 گنا بڑی ہے۔ بھارت کا رقبہ پاکستان سے 4 گنا بڑا ہے۔ آبادی بھی 6 گنا زیادہ ہے۔ دفاعی بجٹ 8 گنا بڑا ہے اور معیشت 11 گنا بڑی ہے۔ لیکن طاقت کا اصل فیصلہ کاغذی اعداد و شمار سے نہیں، میدانِ عمل سے ہوتا ہے۔ پاکستانی افواج جدید ٹیکنالوجی میں بھارت سے کئی گنا آگے ہیں۔ صرف فضائیہ میں فضائی سرحدوں کے نگران 9 اواکس طیارے ہیں جبکہ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بھارت کے پاس صرف 6 طیارے ہیں۔ حالانکہ جارح بھارت کے وسیع رقبے کو کم از کم ایسے 24 طیاروں کی ضرورت ہے، لیکن پاکستان کو اپنے رقبے کی لحاظ سے صرف 2 طیارے کافی تھے ہم نے آگے بڑھ کر حملوں کیلئے ایسے 9 طیارے حاصل کر رکھے ہیں۔ یہ اواکس طیارے جنگ کے دوران دشمن کی ہر نقل و حرکت پر عقابی نگاہ رکھتے ہیں اور دشمن کی فضائیہ کو اندھا کر دیتے ہیں۔ ایٹمی قوت، تربیت یافتہ افواج، فضائی برتری اور اسلحہ کے معیار میں پاکستان، بھارت کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ زمینی افواج ہو یا فضائی دستے پاکستانی سپاہی اور پائلٹ نہ صرف زیادہ تربیت یافتہ ہیں بلکہ جنگی جذبے اور پیشہ ورانہ مہارت میں بھارتی افواج پر غالب ہیں۔ 1979 سے اب تک خطے میں طویل جنگ میں شمولیت اور آپریشنز کا تجربہ جبکہ کشمیر میں 1 کروڑ 60 لاکھ کی آبادی میں تقریباً 70 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ جبکہ بھارتی پنجاب کی آبادی 3 کروڑ 60 لاکھ جس میں 60 فیصد سکھ اور 2 فیصد مسلمان ہیں۔ اس کے علاؤہ پورے بھارت میں مسلمانوں کی آبادی 20 فیصد ہے، یعنی 24 کروڑ جن میں آسام، مغربی بنگال، کیرالہ, اتر پردیش، بہار ، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، کرناٹک، مہاراشٹر میں مسلمانوں کی اکثریتی آبادی ہے اور پاکستانی سرحدوں کے ساتھ راجھستان سے گجرات کے ساحلوں تک پاکستان کے حامی سندھی ہندؤں کی مجموعی آبادی زیادہ ہے۔ آبادی میں 20 فیصد تناسب کے برعکس بھارتی مسلمان فوج میں صرف 2 فیصد تک محدود ہیں۔ جبکہ بھارتی آبادی میں سکھوں کی تعداد 1.7 فیصد لیکن فوج میں 20 فیصد ہیں۔ اس کے علاؤہ نچلی ذات کے ہندو اور مغربی بھارتی سرحدوں کی شورش زدہ علاقوں میں بغاوت کے باعث بھارت کے ٹوٹل اکٹیو فوجی 14 لاکھ 50 ہزار ، پیرا ملٹری 13 لاکھ اور ریزرو افواج 11 لاکھ پچاس ہزار ہیں۔ یعنی ٹوٹل 39 لاکھ میں سے 9 لاکھ صرف مقبوصہ جموں کشمیر میں موجود ہیں۔ اور باقی 30 لاکھ اس وقت سارے پاکستانی سرحد پر لگائے نہیں جا سکتے۔ کیونکہ چین و بھارت کے 3500 کلومیٹر طویل سرحد پر لاکھوں فوجی بٹھانا مجبوری ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھارت مخالف نئی اسلامی حکومت کے بعد بنگلہ دیش کیساتھ 4096 کلومیٹر طویل ترین بین الاقوامی سرحد پر فوج بٹھانا مجبوری ہے۔ ان تمام حالات میں پاکستانی ایکٹیو فوج 6 لاکھ 50 ہزار، ریزرو 5 لاکھ 50 ہزار اور پیراملٹری 3 لاکھ افواج موجود ہیں یہ وہ تعداد ہے جس کم کرکے بتایا گیا ہے۔ یعنی ٹوٹل 15 لاکھ، گلگت بلتستان کی آبادی 25 لاکھ جس میں بالغ مسلح مرد کی تعداد بھی 10 لاکھ سے زائد ہے۔ آزاد جموں کشمیر میں آبادی 48 لاکھ جن میں جنگ لڑنے کے قابل بالغ مرد کی تعداد 20 لاکھ سے زائد ہے۔ صرف پاک افواج، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کے مسلح لڑاکا دستوں کی بات کریں تو یہ 45 لاکھ بنتی ہے۔ باقی صوبہ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے جہادی عوام اور تنظیموں کی تعداد الگ ہے۔ یعنی زمینی جنگ میں پورا پانسہ ہمارے حق میں ہے۔ جہاں تک بحریہ کا تعلق ہے، اگرچہ تعداد میں بھارت کی برتری مانی جاتی ہے، مگر بحیرہ? عرب میں پاکستانی بحریہ کی جنگی حکمت عملی بھارتی معیشت کو چند دنوں میں ڈبونے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لیے پاکستان کے مایہ ناز اسکواڈرن 9 ایف سولہ طیاروں کو بھارتی سرحدوں سے اٹھا کر پسنی بلوچستان میں بحیرہ عرب کی حفاظت کیلئے تعینات کر دیا ہے۔ مغربی سرحدوں کی حفاظت کیلئے پاکستان کے درخواست پر ایرانی حکومت نے بارڈر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے تاکہ بی ایل اے والے شرارت نہ کر سکیں اور ایرانی سرحد سے افواج پیچھے ہٹ کر بھارتی سرحد کے جانب منتقل ہو چکی ہے۔ اور اگر طبلِ جنگ بجا تو مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی کا نہ صرف آغاز ہو گا۔ بلکہ لداخ، کارگل سمیت منالی، شملہ، چندی گڑھ، امبالہ، پٹیالہ، ہریانہ، راجھستان، جودھ پور، رن آف کچھ، گجرات، راج کوٹ سے بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع سومنات تک آزاد کروائیں گے۔ یہ تمام علاقے1ہزار سال تک ہمارے آباؤ اجداد کے زیر حکومت رہے۔ ان شاللہ دوبارہ سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے آ کر رہیں گے۔ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے: فتح کسی بڑے رقبے یا بھاری بجٹ سے نہیں، ایمان، قربانی اور جنگی مہارت سے ہوتی ہے۔ اور ان سب میں پاکستان ناقابلِ شکست ہے۔