قاسم علی
قارئین کرام پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ تاریخی معاہدہ محض دو ممالک کے درمیان ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں ایک اہم واقعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے نے نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو نئی سمت دی ہے بلکہ خطے میں ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کے امکانات بھی پیدا کیے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نئے تعاون کے دائرے میں ترکیہ سمیت دیگر ممالک کی دلچسپی بھی بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تین ایسے ممالک ہیں جن کے درمیان مذہبی، تاریخی، عوامی اور سفارتی تعلقات پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ اگر یہ تعلقات دفاع، معیشت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں ایک مربوط تعاون میں تبدیل ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف تینوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کی سیاست اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔دنیا اس وقت ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پرانے اتحاد اپنی شکل تبدیل کر رہے ہیں، نئی معاشی طاقتیں سامنے آ رہی ہیں اور ممالک اپنے قومی مفادات کے مطابق نئے شراکت دار تلاش کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ایک دوسرے کے قریب آنا معمولی سفارتی پیش رفت نہیں۔
پاکستان کے لیے سعودی عرب ہمیشہ ایک انتہائی اہم دوست ملک رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار سے وابستہ ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے سعودی عرب ایک اہم شراکت دار ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے لیے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، دفاعی صلاحیت، افرادی قوت اور خطے میں اس کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر ایک جدید اور متنوع معیشت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، سیاحت، دفاعی صنعت اور جدید شہری منصوبہ بندی سعودی عرب کے مستقبل کے منصوبوں کا حصہ ہیں۔ پاکستان ان شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑی مارکیٹ اور اہم شراکت دار بن سکتا ہے۔
اسی طرح ترکیہ بھی خطے میں ایک اہم معاشی اور دفاعی طاقت کے طور پر اپنا کردار بڑھا رہا ہے۔ ترکیہ کی دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، تعمیرات اور صنعتی صلاحیت دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہی ہے۔ پاکستان پہلے ہی ترکیہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی ترکیہ کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی روابط بڑھا رہا ہے۔
اگر ان تینوں ممالک کی صلاحیتوں کو ایک مشترکہ فریم ورک میں لایا جائے تو ایک ایسا تعاون وجود میں آ سکتا ہے جس میں پاکستان انسانی وسائل اور جغرافیائی اہمیت، سعودی عرب سرمایہ کاری اور مالیاتی طاقت، جبکہ ترکیہ صنعتی اور تکنیکی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے۔یہی وہ امکان ہے جس نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
اس تعاون کو کسی روایتی فوجی اتحاد کے محدود تصور میں دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ آج کی دنیا میں قومی سلامتی کا تصور صرف دفاع تک محدود نہیں رہا۔ معاشی سلامتی، توانائی، خوراک، ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، صنعتی پیداوار اور سپلائی چین بھی قومی طاقت کا حصہ بن چکے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اگر ان شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرتے ہیں تو یہ ایک نئے علاقائی ماڈل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں فیلڈ مارشل کا کردار بھی خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور خطے میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت پہلے ہی عالمی طاقتوں کے لیے اہم موضوع رہی ہے۔ موجودہ سفارتی پیش رفت نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا ہے۔
تاہم اصل کامیابی صرف عالمی توجہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اس توجہ کو قومی مفاد میں تبدیل کرنے میں ہوگی۔
پاکستان کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صرف سفارتی بیانات اور معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ ان معاہدوں کو عملی معاشی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
اگر سعودی سرمایہ کاری پاکستان میں صنعت، توانائی، زراعت، معدنیات، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آتی ہے، ترکیہ کے ساتھ صنعتی تعاون بڑھتا ہے اور پاکستانی افرادی قوت کو جدید ہنر کے مواقع ملتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ملک کی معیشت کو ایک نئی بنیاد مل سکتی ہے۔اس شراکت داری کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہونے کے خواہش مند ہو سکتے ہیں۔ اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعاون کامیاب ثابت ہوتا ہے تو خلیج، وسطی ایشیا اور مسلم دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی اس طرز کے تعاون کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
یعنی آج جو تعاون تین ممالک کے درمیان دکھائی دے رہا ہے، وہ کل ایک وسیع علاقائی اقتصادی اور اسٹریٹجک نیٹ ورک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یہاں پاکستان کا جغرافیہ انتہائی اہم ہے۔
پاکستان ایک طرف چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے، دوسری طرف افغانستان اور وسطی ایشیا کی طرف راستہ فراہم کرتا ہے جبکہ جنوب میں بحیرہ عرب اور گوادر کی بندرگاہ اسے خلیجی خطے سے جوڑتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے انفراسٹرکچر اور تجارتی راستوں کو جدید بنائے تو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے وسطی ایشیا تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اپنی جغرافیائی اہمیت کو صرف سیاسی نعروں کے بجائے عملی معاشی طاقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔
ترکیہ کے ساتھ تعاون اس عمل کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ ترکیہ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک اہم پل ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اگر تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ راستے تلاش کرتے ہیں تو ایک ایسا اقتصادی رابطہ وجود میں آ سکتا ہے جو کئی خطوں کو آپس میں جوڑ دے۔
لیکن اس کے لیے پاکستان کو سب سے پہلے اپنے اندرونی مسائل پر قابو پانا ہوگا۔
غیر یقینی معاشی پالیسی، سرمایہ کاری کے تحفظ کے مسائل، بیوروکریسی کی رکاوٹیں اور سیاسی عدم استحکام کسی بھی بڑے سرمایہ کار کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب یا ترکیہ سمیت کوئی بھی ملک صرف دوستی کی بنیاد پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ سرمایہ کار کو منافع، تحفظ، شفافیت اور پالیسی کے تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ موجودہ سفارتی کامیابی کو اقتصادی اصلاحات کے ساتھ جوڑ دے۔
دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں، لیکن دنیا پاکستان سے اب صرف وعدے نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔
پاکستانی نوجوان اس شراکت داری کا سب سے بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب میں تعمیرات، انجینئرنگ، آئی ٹی، صحت، مصنوعی ذہانت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں روزگار کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اگر پاکستان اپنے نوجوانوں کو جدید ہنر فراہم کرے تو پاکستانی افرادی قوت عالمی مارکیٹ میں مزید مضبوط مقام حاصل کر سکتی ہے۔
یہی تعاون پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے حصول کا ایک مستقل ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔دوسری جانب پاکستان میں سعودی اور ترکی سرمایہ کاری سے نئی صنعتیں قائم ہو سکتی ہیں۔ دفاعی پیداوار، زرعی ٹیکنالوجی، سولر انرجی، معدنیات، تعمیرات اور آئی ٹی جیسے شعبے تینوں ممالک کے لیے مشترکہ مفادات پیدا کر سکتے ہیں۔
دفاعی تعاون بھی اس شراکت داری کا اہم ستون بن سکتا ہے، لیکن اسے وسیع تر معاشی اور سفارتی تعاون کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ پاکستان اور ترکیہ دفاعی پیداوار میں تعاون کر رہے ہیں جبکہ سعودی عرب اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ اگر تینوں ممالک ٹیکنالوجی، تربیت اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھاتے ہیں تو ایک مضبوط علاقائی دفاعی تعاون تشکیل پا سکتا ہے۔تاہم پاکستان کو خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ قریبی تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان دیگر عالمی طاقتوں سے فاصلے پیدا کرے۔ پاکستان کے لیے چین، امریکہ، یورپ، وسطی ایشیا اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بھی متوازن اور مفاداتی تعلقات ضروری ہیں۔ایک سمجھدار خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جس میں دوستوں کی تعداد بڑھے، لیکن قومی مفادات سب سے مقدم رہیں۔
آج پاکستان کے سامنے ایک تاریخی موقع موجود ہے۔ اگر پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک جامع اقتصادی،
دفاعی اور سفارتی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو دیگر ممالک کے لیے بھی اس دروازے کو کھولنا ممکن ہوگا۔
کل کو ممکن ہے کہ اس تعاون میں خلیج، وسطی ایشیا اور مسلم دنیا کے مزید ممالک شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کریں۔
تب یہ صرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی شراکت داری نہیں رہے گی بلکہ ایک وسیع علاقائی تعاون کا آغاز بن سکتی ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا پاکستان اور اس کے اتحادیوں کی طرف کیوں دیکھ رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس تاریخی موقع سے کیا حاصل کرتا ہے۔
اگر معاہدے سرمایہ کاری میں بدلتے ہیں، سرمایہ کاری صنعت میں، صنعت روزگار میں اور روزگار معاشی خوشحالی میں تبدیل ہوتا ہے تو پھر یہ سفارتی کامیابی واقعی تاریخی ثابت ہوگی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک نئے دور کا آغاز بن سکتا ہے۔ لیکن اس دور کی کامیابی کا فیصلہ بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کریں گے۔
آج دنیا بدل رہی ہے۔ طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں۔ نئی معاشی اور دفاعی شراکت داریاں وجود میں آ رہی ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دوست ممالک کے اعتماد کو ایک مضبوط معاشی اور سفارتی حکمت عملی میں تبدیل کرے۔
سعودی عرب کی مالی طاقت، ترکیہ کی صنعتی و تکنیکی صلاحیت اور پاکستان کی جغرافیائی و انسانی قوت اگر ایک مشترکہ وڑن کے تحت آگے بڑھتی ہے تو اس شراکت داری کے اثرات آنے والے برسوں میں پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اور شاید یہی وہ وجہ ہے کہ آج صرف پاکستان اور سعودی عرب نہیں بلکہ خطے کے کئی دوسرے ممالک بھی اس نئی صف بندی کو دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔معاہدہ ایک آغاز ہے، منزل نہیں۔ اصل تاریخ اس وقت رقم ہوگی جب یہ شراکت داری عوام کی زندگی، معیشت اور خطے کے امن میں حقیقی تبدیلی لائے گی۔