عابد گوندل
پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو روایتی طور پر ہر آزمائش میں کندن قرار دیا جاتا ہے مگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بیجنگ کا دورہ جس میں چینی نائب صدر ہان ڑینگ، وزیرِ خارجہ وانگ ای، سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین جنرل ڑانگ، پیپلز لبریشن آرمی کے پولیٹیکل کمشنر جنرل چن ہوئی اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل کائی ڑائی جن سمیت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیںاس روایت کو ایک نئی جہت دے گیا ہے۔ یہ محض ایک روایتی دورہ نہیں تھا بلکہ یہ اسٹرٹیجک پیغام تھا کہ اسلام آباد اور بیجنگ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے، ہائبرڈ جنگی چیلنجز اور خطے میں ابھرتی نئی صف بندیوں کے درمیان اپنی شراکت داری کو محض برقرار نہیں بلکہ مزید گہرا اور کثیر سمتی بنانا چاہتے ہیں۔ چین کی جانب سے آہنی دوستی کی ازسرِ نو توثیق اور پاکستان کو ہمسایہ سفارت کاری میں ’’ترجیح‘‘ دینے کا اعلان یہ واضح کرتا ہے کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ صرف سڑکوں، توانائی یا بندرگاہوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سرحد پار خطرات، سائبر سکیورٹی، دفاعی جدیدیت اور ادارہ جاتی ہم ا?ہنگی تک پھیلے گا۔یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں طاقت کے بڑے مراکز اپنی جگہیں مستحکم کر رہے ہیں، بھارت امریکہ اور مغربی بلاک کے ساتھ قریبی تزویراتی ہم آہنگی اختیار کر کے دفاعی معاہدوں اور ٹیکنالوجی شیئرنگ کے ذریعے اپنی عسکری صلاحیتیں بڑھا رہا ہے، جبکہ افغانستان کے بعد جنوبی ایشیا میں غیر ریاستی عناصر، دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور پراکسی وار کے نئے روپ سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے میں چینی قیادت کا یہ کہنا کہ پاکستان کی مسلح افواج جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ایک مضبوط ستون اور کلیدی کردار رکھتی ہیں محض سفارتی خوش کلامی نہیں بلکہ ایک زمینی حقیقت کا اعتراف ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اس نے عالمی سطح پر اْس کی عسکری اور خفیہ صلاحیت کو تسلیم کروایا۔ مگر نئی دنیا کے نئے خطرات سائبر دراندازی، معلوماتی جنگ، اقتصادی بلیک میلنگ اور ہائبرڈ آپریشنز روایتی دفاعی ڈھانچے سے بڑھ کر ہمہ جہت ردِعمل کے متقاضی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں مشترکہ تربیت، انسداد دہشت گردی، دفاعی شعبے میں جدت اور ادارہ جاتی روابط کی توسیع پر زور دیا گیا۔سی پیک کے تناظر میں چینی قیادت کی طرف سے پاکستانی حکومت اور اداروں کو چینی شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دراصل ایک سنجیدہ یاددہانی ہے۔ داسو، گوادر اور دیگر مقامات پر پیش ا?نے والے واقعات نے یہ واضح کردیا ہے کہ اقتصادی راہداری کو saboteur نیٹ ورکس نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ اس تناظر میں پاک فوج اور پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔۔ ایک طرف انہیں بیرونی اور سرحد پار دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے، دوسری طرف انہیں اندرونِ ملک ایسی انتظامی، تکنیکی اور قانونی اصلاحات کی طرف بھی تیزی سے بڑھنا ہے جو حساس تنصیبات، اہم سرمایہ کاری اور غیر ملکی افرادی قوت کو فول
پروف سکیورٹی فراہم کریں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جس انداز میں ملٹری ٹو ملٹری تعاون کو ہر شعبے میں توسیع دینے کا عزم ظاہر کیا وہ اسی پالیسی کی توسیع ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی تیاریوں کو صرف روایتی میدانِ جنگ تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، اے ا?ئی پر مبنی نگرانی اور سائبر ڈیفنس کی طرف بھی متوازی قدم بڑھائے گا۔چین کے لیے پاکستان کی اہمیت صرف ایک جغرافیائی راہداری یا گرم پانیوں تک رسائی کا راستہ نہیں بلکہ ایک ایسے شراکت دار کی بھی ہے جو خطے کی سکیورٹی ا?رکیٹیکچر میں اس کے مفادات کا فطری ضامن ہے۔ پاکستان کے لیے چین ایک ایسا قابلِ اعتماد اتحادی ہے جس نے مشکل ترین اقتصادی حالات میں بھی سفارتی اور مالیاتی سپورٹ فراہم کی، عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاملات میں بیک چینل مدد دی اور ہر فورم پر بھارت کے یک طرفہ بیانیوں کے مقابل پاکستان کی سکیورٹی تشویشات کی رسمی بلکہ بعض اوقات غیر رسمی سفارتی وکالت بھی کی۔۔ایک اہم پہلو جس پر اس دورے کے دوران خاصی روشنی ڈالی گئی وہ ہائبرڈ اور سرحد پار خطرات کے خلاف آپریشنل ہم آہنگی ہے۔ پاکستان اور چین دونوں ایک ایسے خطے میں موجود ہیں جہاں اطلاعاتی محاذ ا?رائی، پروپیگنڈہ وار، اقتصادی دبائواور سفارتی تنہائی کے ہتھیار روز بروز زیادہ نفاست کے ساتھ استعمال ہو رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے سی پیک کے خلاف مسلسل مہم جوئی، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ریاست مخالف نیٹ ورکس کو اکسانے کی کوششیں اور عالمی فورمز پر بیانیہ جنگ اسی ہائبرڈ رجیم کا حصہ ہیں جس کا ادراک دونوں ملکوں کی قیادت کو ہے۔ ایسے میں مشترکہ انسٹی ٹیوشنل میکنزم، ریئل ٹائم انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ سائبر ریسپانس ٹیمیں اور ہنگامی حالات میں مربوط سفارتی بیانیہ تشکیل دینا وہ اقدامات ہیں جو اس تزویراتی شراکت داری کو عملی سٹرکچر دیں گے۔پی ایل اے ہیڈکوارٹر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو گارڈ آف آنر پیش کیا جانا اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں باہمی احترام اور اعتماد کا اظہاریہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کو چین میں نہ صرف عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ اسے خطے میں امن و استحکام کے ایک ذمہ دار ضامن کے طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔۔یہ دورہ داخلی سطح پر بھی ایک مضبوط پیغام ہے کہ جب سیاسی سطح پر بیانیہ تقسیم کا شکار ہو، معیشت دباو? میں ہو اور معاشرتی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگے تو ایسے میں ریاستوں کی خارجہ پالیسی دو کام کرتی ہے۔۔اوّل وہ بیرونی دنیا کو یہ دکھاتی ہے کہ قومی سلامتی کے بنیادی مفادات پر ریاست یکسو ہے۔۔ دوم وہ اندرونی قوتوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ ریاست اپنے سب سے بڑے تزویراتی شراکت دار کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دورے میں اقتصادی، دفاعی اور سفارتی تینوں دائروں کی ہم آہنگی کو مرکزی حیثیت دی گئی۔۔اس دورے کی کامیابی کا حقیقی پیمانہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں سامنے آئے گا۔۔کیا سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، زرعی ٹرانسفارمیشن، معدنیات کی ویلیو ایڈیشن اور ڈیجیٹل کوریڈور جیسے تصورات زمینی حقیقت بنیں گے؟ کیا پاکستان چینی شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت کے لیے ایک ایسا مربوط، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی سکیورٹی فریم ورک دے پائے گا جو عالمی معیار پر پورا اترتا ہو؟ کیا ہائبرڈ وار کے محاذ پر پاکستان اور چین ایک مشترکہ ڈیٹا، نیریٹو اور سائبر ڈومین حکمتِ عملی ترتیب دے سکیں گے؟ اورکیا پاکستان اپنی داخلی سیاسی و معاشی استحکام کے بغیر اس اسٹرٹیجک شراکت داری سے پوری اقتصادی و تکنیکی قدر کشید کر سکے گا؟ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ ان تمام سوالات کے لیے ایک مضبوط بنیاد ضرور رکھتا ہے۔۔اب ذمہ داری اسلام آباد اور بیجنگ کے متعلقہ اداروں کی ہے کہ وہ اس بنیاد پر ایک ایسا بلند و بالا اور پائیدار ڈھانچہ تعمیر کریں جو نہ
صرف خطے کے بدلتے ہوئے توازنِ طاقت میں پاکستان کے مفادات کا محافظ بنے بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے باوقار، خود مختار اور دوراندیش ریاست کے طور پر منوائے۔