وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ اجلاس میں SMEs (چھوٹے و درمیانے پیمانے کی صنعتوں) کی ترقی اور سمیڈا (SMEDA) کی تنظیم نو پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جن میں احد خان چیمہ، ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی ہارون اختر شامل تھے۔
1. خواتین کی شمولیت اور حوصلہ افزائی
وزیرِ اعظم نے خواتین کی SMEs میں شمولیت بڑھانے کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔گھریلو صنعتوں کی رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ کاروباری قرض اور دیگر سہولتوں کے لیے آسانی سے اہل ہوں۔Womenpreneurship Platform قائم کیا جائے گا جو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ہوگا اور خواتین کو کاروباری معلومات، رجسٹریشن، ٹیکس معاملات اور ہنر کی آگاہی فراہم کرے گا۔
2. سمیڈا (SMEDA) کی تنظیم نو
سمیڈا کے روڈ میپ کا واضح وقت مقرر کیا جائے تاکہ اسے جلد از جلد عملی شکل دی جا سکے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں SMEs کی ترقی کے لیے دفاتر کھول دیے گئے، جنہیں مقامی عوام اور چیمبرز کی طرف سے پذیرائی حاصل ہے۔سمیڈا میں نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل بورڈ تشکیل دیا جا چکا ہے، جبکہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تعیناتی آئندہ چند روز میں مکمل ہوگی۔
3. صنعتی اور زرعی شعبوں میں ترقی
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی ترقی چھوٹے و درمیانے پیمانے کی صنعتوں کی ترقی سے مشروط ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں بڑی صنعتیں خام مال SMEs سے حاصل کرتی ہیں۔دیہی علاقوں میں زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے لیے SMEs کی تربیت یقینی بنائی جائے۔
4. مالی معاونت اور استعداد میں اضافہ
اسٹرینگ کمیٹی کے احکامات کی بدولت SMEs کی استعداد، قرضوں کی فراہمی، سرمائے اور اشتراک میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔SMEs کو رسمی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ بھی پیش کیا گیا۔
5. دیگر اقدامات
وزیرِ اعظم نے سمیڈا کی تنظیم نو اور SMEs کی ترقی کے حوالے سے وزارت صنعت و پیداوار کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔اجلاس میں زور دیا گیا کہ SMEs کی ترقی اقتصادی نمو اور دیہی معاشرتی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔اس اجلاس کے نتیجے میں پاکستان میں خواتین اور دیہی معیشت کی شمولیت، قرضوں اور مالی معاونت تک رسائی، اور SMEs کو رسمی معیشت میں شامل کرنے کے اقدامات میں تیزی آئے گی۔