وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی ترقی سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملکی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت سمیڈا (SMEDA) کے بزنس پلان سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے آئندہ تین برسوں پر مشتمل جامع روڈ میپ پیش کیا گیا۔ اجلاس میں ایس ایم ای سیکٹر کو مضبوط بنانے، درپیش مسائل کے حل اور پائیدار ترقی کے لیے مختلف تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے قابلِ عمل اور مؤثر بزنس پلان تیار کرنے پر معاون خصوصی ہارون اختر اور سمیڈا کے نو منتخب بورڈ آف ڈائریکٹرز کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے تاکہ یہ شعبہ قومی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے عمل کو تیز کیا جائے، تاکہ کاروباری طبقہ مالی مشکلات کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔اجلاس میں ایس ایم ایز کو درپیش رکاوٹوں، ان کے حل کے لیے لائحہ عمل، اور ملکی برآمدات میں ایس ایم ای سیکٹر کے مؤثر انضمام کے لیے حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی۔
اس کے علاوہ پاکستان کے ایس ایم ایز کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنانے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ جاری تعاون کو مزید فروغ دینے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایس ایم ایز کی استعداد بڑھانے کے لیے حالیہ عرصے میں ملک کے چھ شہروں میں تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ہے، جبکہ عالمی معیار کے مطابق کاروبار کو تیار کرنے کے لیے مختلف تربیتی پروگرامز پر بھی کام جاری ہے۔ خواتین کی ایس ایم ای سیکٹر میں شمولیت اور فعال کردار کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز، سمیڈا کے بورڈ ممبران اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔