ایران میں تفتان آتش فشاں 7 لاکھ سال بعد دوبارہ سرگرم، ماہرین نے خبردار کر دیا

ایران میں تفتان آتش فشاں 7 لاکھ سال بعد دوبارہ سرگرم، ماہرین نے خبردار کر دیا

ایران میں واقع تفتان آتش فشاں تقریباً 7 لاکھ سال کی خاموشی کے بعد دوبارہ سرگرمی کے آثار دکھانے لگا ہے۔

مقامی ماہرین کے مطابق اس آتش فشاں کو طویل عرصے تک مردہ تصور کیا جاتا رہا، تاہم اب اسے خوابیدہ (Dormant) قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ فی الحال کسی فوری دھماکے کا خطرہ نہیں، لیکن حکام نے علاقے میں نگرانی بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جولائی 2023 سے مئی 2024 کے دوران زمین میں تقریباً 9 سینٹی میٹر تک ابھار ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آتش فشاں کے نیچے گیس اور ماگما کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔تفتان آتش فشاں تقریباً 3,940 میٹر بلند ہے، اور اس کی تشکیل عربی سمندر کی پرت کے دباؤ سے یوریشیائی براعظم کے نیچے ہوئی تھی۔
ماہرین کے مطابق اگر آتش فشاں مکمل طور پر سرگرم ہو گیا تو قریبی آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کی یہ حرکتیں کئی سالوں تک جاری رہ سکتی ہیں اور ممکن ہے کہ مستقبل میں اس آتش فشاں کی سرگرمی میں مزید اضافہ ہو۔مقامی انتظامیہ نے رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے اور ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔