کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت کو وعدوں پر عمل درآمد کے لئے ایک ماہ کا وقت دے دیا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی زیرِ صدارت پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس گزشتہ روز ہوا جس میں پنجاب حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان تناؤ پر بات کی گئی۔پنجاب سے تعلق رکھنے والے پارٹی ارکان نے اپنے تحفظات بتائے اور بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم اور وفاقی وزرا سے ہونے والی اپنی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔صدر آصف زرداری نے نواب شاہ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے کی گئی گفتگو پر اعتماد میں لیا۔اجلاس میں حکومت کے ساتھ اتحاد، پنجاب میں سیلاب متاثرین کی بحالی، افغانستان کی دراندازی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔اجلاس کے بعد شرجیل میمن اور ندیم افضل چن کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سینٹر شیریں رحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے طے کیا ہے کہ ن لیگ کی وفاقی حکومت ایک ماہ میں پیپلز پارٹی کے تحفظات کو دور کرے اگر ہمارے مطالبات اور تحفظات حل نہیں ہوتے تو اس مدت کے بعد پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس دوبارہ ہوگا اور اس میں اہم سیاسی فیصلے کریں گے۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال کی بہتری کیلئے اہم سیاسی کردار ادا کرے گی جبکہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہورہی ہے۔شیری رحمن نے کہا کہ وفاقی حکومت سیلاب متاثرین کی فوری بحالی کے اقدام کرے ، گندم کی امدادی قیمت مقرر کی جائے، سیلاب متاثرین کی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فوری مدد کی جائے۔ان کاکہناتھاکہ اجلاس میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ مودی افغانستان کو اپنے عزائم کیلئے استعمال کررہا ہے ،افغانستان ،بھارت یا کوئی بھی ملک ہو یا خوارج اگر وہ ہماری فوج اور عوام پر حملہ کریں گے تو ان کو منہ توڑ جواب ملے گا،پیپلز پارٹی اور پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ ،انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔پی پی رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور پارلیمان کی مضبوطی کیلئے پیپلز پارٹی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی، پیپلز پارٹی تمام معاملات کو بات چیت سے حل کرے گی جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف متنازع بیان بازی نہیں ہوگی تاہم پیپلزپارٹی عوام کے مسائل کیلئے آواز اٹھائے گی۔ پارٹی نے سیلاب متاثرین کو خود بھی ریلیف کا سامان پہنچایا ہے،اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متاثرین کو فوری امداد پہنچائی جائے ۔ متاثرین ہمارے لئے ریڈ لائن ہیں، متاثرین کیلئے بات کرنیکا سب حق رکھتے ہیں اور غریب لوگوں کیلئے ریلیف کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔سیلاب متاثرین کے بجلی بل معاف کئے گئے جو قابل تحسین ہے، بلاول بھٹو کا مطالبہ تھا کہ سیلاب متاثرین کے بل معاف کئے جائیں۔ شیری رحمن نے کہاکہ حکومت سازی کے وقت بہت سی باتیں طے ہوئی تھیں، پنجاب میں بلدیاتی نظام قابل قبول نہیں وہاں بجلی مہنگی ہونے کے سبب ٹیکسٹائل صنعت بند ہورہی ہیں۔پی پی رہنما ندیم افضل چن کا کہنا تھاکہ سب سے اہم معاملہ بلدیاتی انتخابات ہیں ،پنجاب میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ لانے کا وعدہ کیا گیا تھا، ہمارے اس بلدیاتی نظام پر تحفظات ہیں، بجلی کا بحران اور زرعی اصلاحات کے حوالے سے بات ہوئی ہے ، پنجاب حکومت نے گندم ، گنے کی فصل کے حوالے سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے، ہم اپنے مطالبات پر قائم ہیں ، ایک مہینے کے بعد پھر ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا بہانہ بناکر گندم نہیں خریدی گئی.آخری ملاقات میں وزیراعظم نیوعدوں پر وقت مانگا جو انہیں دیا ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ نائب وزیراعظم چل کر نوابشاہ آئے روایات ہیں کہ کوئی چل کر آئے تو اس کی بات کو مان دیا جاتا ہے، دونوں جانب سے سیز فائر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی پر ہوا ہے تاہم لوگوں کی شکایتیں ہیں تو بات کریں گے کیونکہ ہم لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔