افغان عبوری حکومت کی پالیسیاں تبدیل ، افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہی ہے
ساڑھے چار ملین سے زائد افغانی ہمارے ہاں ہیں ہم نے ان کو عزت دی اور روزگار دیا،یہاں دوسرا گھر دیا:وفاقی وزیر
اسلام آباد (آئی این پی)وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و سیفران انجنئیر امیر مقام نے کہا ہے کہ ہشتگردوں کیخلاف کاروائی نہ کرنا افغان حکومت کی مجبوری ہوگی، پاکستان مزید برداشت نہیں کرسکتا، افغان مہاجرین 80کی دہائی میں پاکستان آئے ، ساڑھے چار ملین سے زائد افغانی ہمارے ہاں ہیں ہم نے ان کو عزت دی اور روزگار دیا،یہاں دوسرا گھر دیا۔ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر نے کہا کہا اب چا لیس سے پینتالیس سال ہوگئے۔ اب افغان عبوری حکومت کی پالیسیاں تبدیل ہورہی ہیں، افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہی ہے اور کتنی زیادہ شہادتیں ہوئی ہیں، افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے، ہمارا ان سے مسلسل مطالبہ رہا ہے کہ افغان زمین پاکستان کیخلاف دہشتگردی سے روکیں۔پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف کاروائیاں صرف ہمارے نہیں افغان عوام کے مفاد میں بھی ہیں۔اگر افغان حکومت دہشتگردوں کیخلاف کاروائی نہیں کرسکتا لیکن پاکستان مزید برداشت نہیں کرسکتا۔جو بھی حالات ہوں گے ان کو بھگتنا ہوں گے۔دوسروں کی جنگ افغان عوام کو اپنے سر نہیں لینی چاہیئے۔