طالبان کو دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کرنا ہوگی ورنہ پاکستان دفاعی اقدامات کرے گا عاصم افتخار

 افغانستان سے دہشتگردی پاکستان کیلئے سکیورٹی چیلنج  بن چکی،یہ دہشتگردی  خطے سے باہر تک اثرات مرتب کر رہی ہے
  افغان شہری باوقار،  منظم انداز میں اپنے وطن واپس لوٹیں گے،اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا خطاب 
نیویارک(آئی این پی )اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغان سرزمین سے ہونے والی  دہشت گردی کو پاکستان کی قومی سلامتی  کیلئے  سب سے  سنگین خطرہ قرار  یتے ہوئے  افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ د یا ہے ۔پاکستان کے مستقل مندوب  عاصم افتخار نے افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں واضح کیا کہ  آج افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں اور  ان کے پراکسی عناصر کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا  پاکستان نے اچھے ہمسائے کے طور پر گذشتہ چار سالوں سے طالبان حکومت کے ساتھ مسلسل رابطہ ے میں رکھا۔  عالمی برادری کو افغان طالبان کی جانب سے کیے جانے والے وعدوں کی بنیاد پر توقعات تھیں کہ افغان سرزمین کو ایک بار پھر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ پوری دنیا اور پاکستان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ رواں سال افغانستان سے شروع ہونے والے شدت پسند حملوں میں 1200 پاکستانی مارے گئے ہیں۔  2022 سے اب تک افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے 214 حملہ آور بشمول خودکش بمباروں کو روکا جا چکا ہے