اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت کے بعد پارٹی قیادت نے ایک اہم اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں پارٹی کی آئندہ کی حکمت عملی اور احتجاج کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ احتجاج کے حوالے سے پارٹی کے تمام اہم رہنماؤں کو اکٹھا کرکے ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں عمران خان کی ضمانت کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور احتجاج کی حکمت عملی پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں احتجاج کی نوعیت، دائرہ کار اور اس کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا تاکہ پارٹی کی سرگرمیوں کو موثر انداز میں منظم کیا جا سکے۔مزید براں، عمران خان کی جانب سے پارٹی میں موجود اہم رہنماؤں کو مذاکرات کے حوالے سے بھی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ان میں علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کو اہم ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ دونوں رہنما عمران خان کا پیغام دیگر پارٹی قائدین تک پہنچائیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پی ٹی آئی کی حکمت عملی اور پیغام میں کوئی ابہام نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق، یہ دونوں رہنما نہ صرف داخلی پارٹی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے، بلکہ ان کی ملاقاتیں اور گفتگو حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں سے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی اہم ہو سکتی ہیں۔ ان کی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ عمران خان کے پیغام کو درست طور پر دیگر رہنماؤں تک پہنچائیں تاکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کو منظم اور مؤثر بنایا جا سکے۔یہ سیاسی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب عمران خان کے کیس کی سماعت کے دوران ضمانت کے بعد پارٹی میں ایک نئی تحریک کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا مقصد نہ صرف موجودہ سیاسی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کے درمیان حوصلہ بھی برقرار رکھنا ہے تاکہ پارٹی کی مقبولیت میں کمی نہ ہو۔
پی ٹی آئی کا یہ اجلاس اور اس کے بعد کی حکمت عملی پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس میں فیصلے کیے جائیں گے کہ پی ٹی آئی کا احتجاج اور سیاسی سرگرمیاں کس سمت میں جائیں گی اور کس طرح اس کا جواب دیا جائے گا۔