جی ایچ کیو حملہ کیس: شیریں مزاری، شیخ رشید و دیگر کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ

جی ایچ کیو حملہ کیس: شیریں مزاری، شیخ رشید و دیگر کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ

ویب ڈیسک:راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں 8 ملزمان کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

 یہ کیس 9 مئی کے احتجاج اور اس کے دوران جی ایچ کیو پر حملے سے متعلق ہے، جس میں اہم سیاسی شخصیات اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر الزام عائد کیا گیا ہے۔عدالت میں شیریں مزاری، شیخ رشید، میجر (ر) طاہر صادق سمیت دیگر ملزمان کی درخواست بریت پر سماعت ہوئی۔ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کی جانب سے ایڈووکیٹ محمد فیصل ملک اور دیگر وکلا نے ملزمان کی بریت کے لیے دلائل دیے، جبکہ پراسیکیوشن کی طرف سے ظہیر شاہ اور اکرام امین منہاس نے اس درخواست کی مخالفت کی۔پراسیکیوشن نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس وقت ملزمان کی بریت کا فیصلہ ٹرائل پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس سے شہادتوں کی مکمل جانچ پڑتال متاثر ہو سکتی ہے۔

 پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ اس اسٹیج پر ملزمان کی بریت سے عدالت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ فیصلے ٹرائل کے بعد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک دوسرے کیس میں امجد خان نیازی کی بریت کو بھی پراسیکیوشن نے چیلنج کیا تھا۔عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور کہا ہے کہ فیصلہ کچھ دیر میں سنایا جائے گا۔اس کیس میں اہم شخصیات کی بریت یا سزا کا فیصلہ ملک کی سیاست میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے جو پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہوئے ہیں۔