فل کورٹ میں تمام ججز ہوتے ہیں،آئینی بنچ فل کورٹ نہیں:حامد خان

صدر سپریم کورٹ بار نے تمام اختیار اپنے تک محدود کرلیا،جلد وائٹ پیپر جاری کریں گے، پریس کانفرنس
اسلام آباد(آن لائن )سینئر قانون دان حامد خان اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار سلمان منصور نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے اور جس میں سینئرقانون دان حامدخان نے کہاہے کہ صدر سپریم کورٹ بار نے تمام دفاتر کا اختیار اپنے تک محدود کر لیا ہے ،سپریم کورٹ بار کے رولز کے مطابق تمام انتظامی دفاتر سیکرٹری کے پاس ہوتے ہیں،اس معاملے پر جلد ایک وائٹ پیپر جاری کریں گے،موجودہ آئینی بنچ فل کورٹ نہیں ہے فل کورٹ میں تما م ججزموجودہوتے ہیں۔انھوں نے مزیدکہاکہ پچھلے سال بھی کئی ووٹ آگے پیچھے کیے گئے لیکن اس دفعہ حد درجہ کی۔سپریم کورٹ بار میں کبھی ایسی مداخلت نہیں دیکھی گئی تھی،محمد حبیب قریشی الیکشن جیت چکے تھے ،سندھ سے ملک خوشحال اعوان نے 1430 ووٹ لیے ،ندیم قریشی 1422 ووٹ لے کرہارے تھے،اس کے بعد ندیم قریشی کو کامیاب قرار دے دیا ،فارم 47 کی سیاست بار الیکشنز میں لائی گئی ،ملک خوشحال کے علاوہ کسی اور کو نائب صدر سندھ نہیں مانیں گے ،سیکرٹری سپریم کورٹ بار کو کوئی کام کرنے سے نہیں روک سکتا،ائندہ انتخابات میں بائیو میٹرک نظام لانے کا مطالبہ ہے ،کچھ سیاسی جماعتوں اور بارز نے 26 ویں ترمیم کو چیلنج کیا ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ ان درخواستوں کو فل کورٹ سنے،توقع کرتے ہیں کہ موجودہ چیف فل کورٹ بنائیں گے ،آئینی بینچ اس فیصلہ سے پہلے بننا ہی نہیں چاہیے تھا،ایک طرف آئینی بینچ کہلانے والے کام کر رہے ہیں ،کیا باقی ساری سپریم کورٹ غیر آئینی ہوگئی ہے۔