اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت آج پیرکوہوگی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بنچ نے سماعت کرے گاسابقہ سماعت پر بنچ کے رکن جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا حکومت کس طرح کی پالیسیاں بنا رہی ہے؟ پالیسیوں سے 60سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ پروویڈنٹ فنڈز میں کٹوتی بھی ہوتی ہے؟کیا فنڈز بیوا?ں کو بھی جاتا ہے؟یہ اعتراض کہیں اٹھایا کہ ایسے ہی درخواست دائر ہو گئی؟۔وکیل عاصمہ حامد نے کہاتھاکہ اسلام آبادہائیکورٹ فیصلے کے 2پیراگراف میں تضاد ہے،ایک پیراگراف میں کہا گیا ٹیکس نہیں لگے گا، ایک میں کہہ رہے ہیں لگے گا، عدالت نے کہا کہ سپر ٹیکس میں آپ کمپنیوں سے ٹیکس لے رہے ہیں، نقصان لوگوں کا ہورہا ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا حکومت کس طرح کی پالیسیاں بنا رہی ہے؟ پالیسیوں سے 60سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ پراویڈنٹ فنڈز میں کٹوتی بھی ہوتی ہے؟کیا فنڈز بیواؤں کو بھی جاتا ہے؟یہ اعتراض کہیں اٹھایا کہ ایسے ہی درخواست دائر ہو گئی؟ وکیل عاصمہ حامد نے کہاکہ شوکاز نوٹس کیا گیا تھا جس پر یہ درخواست آئی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ یہ تو ’’آبیل مجھے مار‘‘والی بات ہو گئی،وکیل ایف بی آر نے کہاکہ سیکشن 4سی اور 9کو ملا کر پڑھا جائے گا، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ان دونوں سیکشنز کو ایک ساتھ پڑھنے کا مقصد کیا تھا؟جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ایکٹ کے تحت کیا ٹیکس ریٹ فکس ہوتا ہے؟وکیل نے کہاکہ 1979کے آرڈیننس کے بعد ایک ترمیم آئی ہے، اس میں فکس ہوتا ہے،عدالت نے کیس کی سماعت پیر صبح ساڑھے 9تک ملتوی کردی۔