پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک مبینہ ڈرگ کیس کلپ میں اپنا نام سامنے آنے پر سخت ردعمل دیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18 تاریخ کو سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ایک مبینہ ڈرگ ڈیلر خاتون ان کا نام لے رہی تھی، تاہم بعد میں اسی خاتون نے بیان دیا کہ اس سے یہ بات زبردستی کہلوائی گئی۔راجہ پرویز اشرف نے ایوان میں کہا کہ وہ اس معاملے پر حیران ہیں کہ آخر یہ کون سا راجہ پرویز اشرف ہے جس کا ذکر کیا جا رہا ہے، اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ مکمل تحقیقات کے بغیر کسی کو سوشل میڈیا یا عوامی سطح پر مجرم نہ ٹھہرایا جائے۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے گا اور پولیس کو ہدایت دی جائے گی کہ ملزمان کو عدالت میں پیش ہونے سے پہلے میڈیا پر پیش نہ کیا جائے۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ کیا سائبر کرائم اداروں کو غلط پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔وفاقی وزیر نے ایوان کو یقین دلایا کہ پورا ایوان راجہ پرویز اشرف کے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ اسپیکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منشیات کے پھیلاؤ کے اصل ذمہ داروں کی نشاندہی ضروری ہے۔معاملے پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔