پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے مری میں شہریوں کو اپنی تعمیر شدہ عمارتوں کو گرانے کی دھمکی دینے پر شدید احتجاج کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مری ایک منفرد اور تاریخی مقام ہے اور اس علاقے کے شہریوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے، وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ عمارتیں زیر تعمیر تھیں تو متعلقہ محکمے کہاں تھے؟ اب جب یہ عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں، تو انہیں گرانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ متاثرہ افراد نے انہیں بتایا کہ انتظامیہ شہریوں کو تنگ کر رہی ہے اور سیاسی قائدین کی کوششوں کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ مری میں سابق اراکین اسمبلی پر بھی ایف آئی آرز کاٹی گئیں، جو ایک ناپسندیدہ اقدام ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ان ایف آئی آرز کو فوراً ختم کیا جائے اور مری کی انتظامیہ اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کرے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ اگر اس مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو یہ سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے علاقے کے سیاسی قائدین کے خلاف ایف آئی آرز کاٹنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے مسائل کا حل نہیں نکلے گا، بلکہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر فوری طور پر کارروائی کی جائے، خاص طور پر ان افراد کے خلاف جو رشوت لے کر مسائل کو بڑھا رہے ہیں۔راجہ پرویز اشرف نے مری کے شہریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے کو قومی سطح پر اٹھائیں گے اور ان کی آواز بنیں گے تاکہ اس کا حل نکالا جا سکے۔