غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون سدرہ بی بی کے لرزہ خیز قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
رکشہ ڈرائیور خیال محمد نے عدالت میں دفعہ 164 کے تحت جرم کا اعتراف کرتے ہوئے وعدہ معاف گواہ بننے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
عدالت کا فیصلہ
کیس کی سماعت ڈیوٹی سول جج ثمرہ وحید نے کی، جس دوران عدالت نے گرفتار 6 ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 4 روز کی توسیع کر دی۔ پولیس نے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے انہیں دوبارہ 4 جولائی کو پیش کرنے کی ہدایت کی۔
پولیس مؤقف
پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان سے وہ تکیہ برآمد کرنا باقی ہے جو خاتون کو قتل کرنے کے لیے استعمال ہوا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، سدرہ بی بی کی لاش ملزم مانی گل کے لوڈر رکشے میں منتقل کی گئی، جس میں رکشہ ڈرائیور نے بھی ابتدائی طور پر تعاون کیا تھا۔
عدالت کے احکامات
عدالت نے ملزمان کے سیاہ کپڑوں سے چہرے ڈھانپنے پر استفسار کرتے ہوئے نقاب ہٹانے کا حکم دیا۔وکلائے صفائی کو مقدمے کی فائل کا مطالعہ کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔رکشہ ڈرائیور کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا جبکہ 6 ملزمان کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
پس منظر
یاد رہے کہ خاتون کو جرگے کے فیصلے پر غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا، اور اس کیس کو ہائی پروفائل قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں پر باریک بینی سے کام ہو رہا ہے۔