راولپنڈی: غیرت کے نام پر لڑکی کا قتل، جرگے کے سربراہ کے سنسنی خیز انکشافات

راولپنڈی: غیرت کے نام پر لڑکی کا قتل، جرگے کے سربراہ کے سنسنی خیز انکشافات

تھانہ پیرودھائی کے علاقے فوجی کالونی میں غیرت کے نام پر قتل کے اندوہناک واقعے میں 21 سالہ شادی شدہ لڑکی سدرہ کو قتل کرنے والے جرگے کے سربراہ عصمت اللّٰہ نے دورانِ تفتیش تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

پولیس کے مطابق، عصمت اللّٰہ نے اعتراف کیا ہے کہ سدرہ کو برادری کے فیصلے اور جرگے کے حکم پر قتل کیا گیا۔ سدرہ کو کشمیر سے راولپنڈی واپس لانے کے لیے اسلحے کا استعمال بھی کیا گیا، جس کے بعد اسے قتل کرکے چھٹی قبرستان میں دفنا دیا گیا۔

 قتل کی مکمل تفصیل اور تسلیم شدہ بیان:
ملزم عصمت اللّٰہ نے انکشاف کیا کہ:16 جولائی کو سدرہ اپنے سسرال سے عثمان نامی لڑکے کے ساتھ مظفر آباد (آزاد کشمیر) چلی گئی تھی۔سدرہ کو واپس لانے کے لیے ایک گاڑی میں اس کے سسر صالح محمد عرف سلیم گل، والد عرب گل، اور رشتہ دار امانی گل عرف مانی گل مظفر آباد پہنچے۔گاڑی میں کلاشنکوف رائفل بھی موجود تھی، جسے عثمان کو دھمکانے کے لیے دکھایا گیا۔سدرہ کو زبردستی واپس لایا گیا اور برادری کے فیصلے پر قتل کرکے رازداری سے چھٹی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔
 غیر قانونی اسلحہ برآمد اور نیا مقدمہ درج
عصمت اللّٰہ نے پولیس کو بتایا کہ واردات میں استعمال کی گئی کلاشنکوف ان کے گھر کی پیٹی میں رکھی ہے۔ اس بیان پر پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر اسلحہ برآمد کر لیا اور ایک نیا مقدمہ ناجائز اسلحہ ایکٹ کے تحت پولیس مدعیت میں درج کر لیا ہے۔

 پولیس کارروائی اور تفتیش جاری
پولیس نے قتل، اغوا، اور غیر قانونی اسلحے کے دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے جرگے کے تمام کرداروں کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔مزید گرفتاریاں اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں دیگر ملزمان کو بھی شامل تفتیش کیا جا رہا ہے اور قبر کشائی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا رہا۔
 سماجی و انسانی حقوق کے حلقوں کا ردعمل
واقعے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی رہنماؤں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ:"یہ ایک صریح قتل ہے جسے برادری یا جرگے کے فیصلے کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کی گئی۔ ایسے جرگے آئین اور قانون دونوں کے منافی ہیں۔"مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:ریاست "جرگہ کلچر" کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی کرے۔
متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔