ڈونلڈ ٹرمپ اور خاندان کو ٹیکس تحقیقات سے استثنیٰ دے دیا گیا، ڈیموکریٹس کا شدید ردِعمل

ڈونلڈ ٹرمپ اور خاندان کو ٹیکس تحقیقات سے استثنیٰ دے دیا گیا، ڈیموکریٹس کا شدید ردِعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے خاندان اور کاروباری اداروں کو جاری اور ممکنہ ٹیکس تحقیقات سے مکمل استثنیٰ دینے کے حوالے سے ہے۔

 اس فیصلے کا اعلان امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایک خصوصی ہدایت نامے کے ذریعے کیا گیا ہے۔یہ اقدام اس معاہدے کے بعد کیا گیا ہے، جس کے تحت صدر ٹرمپ نے امریکی ٹیکس ادارے کے خلاف 10 بلین ڈالرز کا مقدمہ نمٹایا تھا۔یہ مقدمہ ان کے ٹیکس ریکارڈ میڈیا میں لیک ہونے پر دائر کیا گیا تھا۔قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش کی دستخط شدہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ، ان کے خاندان اور کاروبار کے خلاف کسی بھی قسم کے ٹیکس کے دعوے یا تحقیقات کو ہمیشہ کے لیے روک دیا جائے گا، چاہے وہ موجودہ ہوں یا مستقبل میں سامنے آئیں۔ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس فیصلے کو حکومتی طاقت کا ناجائز استعمال اور کرپشن قرار دیا ہے۔سینیٹر ایڈم شف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے خاندان کو حکومتی طاقت کے ذریعے ٹیکس ریلیف فراہم کیا ہے۔
سابق مشیر رچرڈ پینٹر نے اس اقدام کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کو سرکاری اداروں سے ذاتی مالی فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔اس معاہدے کے تحت ایک متنازع ’اینٹی ویپنائزیشن فنڈ‘ بھی قائم کیا گیا ہے، جس کے لیے 1.776 بلین ڈالرز مختص کیے گئے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ سیاسی اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، اور اس کی نگرانی 5 رکنی کمیشن کرے گا جس میں 4 ارکان کا تقرر ٹوڈ بلانش کریں گے۔یہ فیصلہ امریکی سیاست میں اہم تنقید اور اختلافات کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ اس سے صدر ٹرمپ کے مالی معاملات اور ان کے خاندان کے سیاسی اور قانونی تحفظات کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔