اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے تنخواہ دار طبقے اور معمر شہریوں کے لیے اہم اعلانات کیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے 6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم کرکے صرف 1 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر خزانہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ 75 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کو مکمل طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جبکہ سالانہ ایک کروڑ سے زائد پنشن حاصل کرنے والوں پر ٹیکس لاگو ہوگا تاکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جا سکے۔
دیگر اہم اعلانات:
درآمدی سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کر دیا گیا۔
ای وی (الیکٹرک وہیکلز) پالیسی پر مشاورت جاری ہے، جلد اعلان متوقع۔
صنعتی پالیسی جلد متعارف کرائی جائے گی۔
حکومتی اخراجات کو کنٹرول کیا گیا ہے تاکہ مالی نظم و ضبط قائم رہے۔
کسانوں کے لیے قرض پروگرام بنایا گیا ہے، جس کے تحت کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
قومی اسمبلی کا ماحول:
وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، اور احتجاجاً شور شرابہ کیا۔ ہنگامہ آرائی کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔یہ اقدامات حکومت کی جانب سے مالی سال 2025-26 میں تنخواہ دار اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جبکہ معیشت کو دستاویزی بنانے اور محصولات میں اضافے کے لیے بڑے پنشنرز اور امپورٹڈ اشیاء پر متوازن ٹیکس لاگو کیے جا رہے ہیں۔