واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹانے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کو سینیٹ میں مزید 13 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔
2026 کے وسط مدتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس کے زیرِ قیادت بلاک کی سینیٹ میں نشستیں کم از کم 54 ہوگئی ہیں، تاہم صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی طور پر دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔امریکی سینیٹ 100 ارکان پر مشتمل ہے۔ اگر تمام سینیٹرز مواخذے کے مقدمے میں موجود ہوں اور ووٹ دیں تو صدر کو مجرم قرار دے کر عہدے سے ہٹانے کے لیے کم از کم 67 ووٹ درکار ہوں گے۔ اس حساب سے اگر ڈیموکریٹس کے تمام 54 ارکان مواخذے کے حق میں ووٹ دیں تو انہیں مزید 13 سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ امریکی آئینی نظام کے تحت صدر کے مواخذے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا عمل دو الگ مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں ایوانِ نمائندگان صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد یا الزامات کی منظوری دیتا ہے، جس کے لیے سادہ اکثریت کافی ہوتی ہے۔
اس کے بعد معاملہ سینیٹ میں جاتا ہے، جہاں باقاعدہ سماعت اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ووٹنگ کی جاتی ہے۔امریکی آئین کے آرٹیکل ون کے مطابق سینیٹ میں صدر کو مجرم قرار دینے کے لیے موجود ارکان کے دو تہائی ووٹ ضروری ہیں۔ اس لیے سینیٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرنا صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی نہیں۔ اگر تمام 100 سینیٹرز موجود ہوں تو 67 ووٹ درکار ہوں گے، تاہم ارکان کی حاضری کم ہونے کی صورت میں مطلوبہ تعداد بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔
وسط مدتی انتخابات کے بعد سیاسی صورتحال
حالیہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوان کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے کم از کم 54 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ بعض ریاستوں کے نتائج کی تکمیل کے بعد ان کی اکثریت کی حتمی تعداد مزید واضح ہوگی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت ملنے سے ڈیموکریٹس کو حکومتی اقدامات کی تحقیقات اور مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے زیادہ سیاسی گنجائش حاصل ہوگی۔تاہم مواخذے کی منظوری اور سینیٹ میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنا دو مختلف مراحل ہیں۔ سینیٹ میں مزید 13 ووٹوں کی حمایت حاصل کیے بغیر، اگر تمام ارکان ووٹنگ میں شریک ہوں، صدر کو عہدے سے ہٹانا ممکن نہیں ہوگا۔