ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا میں جنگی حکمتِ عملی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اسرائیل نے ایسے جدید حملہ آور نظام کا مظاہرہ کیا ہے جس نے روایتی فضائی جنگ کے اصولوں کو چیلنج کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ پر ہونے والے مبینہ حملے اور بعد ازاں ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ہی طرز کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے مبینہ طور پر متعلقہ ممالک کی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر دور فاصلے سے ایئر لانچڈ بیلسٹک میزائل فائر کیے، جو فضا سے بلند ہو کر قریبِ خلاء تک گئے اور پھر ہائپرسونک رفتار سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔رپورٹ کے مطابق اس نئی حکمتِ عملی نے روایتی فضائی دفاعی نظام جیسے پیٹریاٹ اور THAAD کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، کیونکہ اتنی زیادہ رفتار سے آنے والے ہتھیاروں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام کو صرف چند سیکنڈز کا وقت ملتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ یہ صرف میزائل ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک مکمل مربوط جنگی نظام ہے جس میں انٹیلی جنس، سائبر وارفیئر، نگرانی، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور جدید سافٹ ویئر انٹیگریشن شامل ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی مزید ممالک تک پھیلتی ہے تو مستقبل کی جنگیں زیادہ تیز، غیر متوقع اور پیچیدہ ہو سکتی ہیں، جہاں فیصلوں کے لیے دنوں کے بجائے صرف چند منٹ دستیاب ہوں گے۔