بھارت میں ایئر انڈیا کے حالیہ طیارہ حادثے کے بعد حیران کن انکشافات سامنے آ گئے ہیں، جنہوں نے پائلٹس کی ذہنی صحت اور ایئر لائن کی حفاظتی پالیسیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بین الاقوامی ذرائع، بشمول برطانوی اخبار ٹیلی گراف اور نیویارک پوسٹ، کی رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت بوئنگ 787 ڈریم لائنر کا کنٹرول کیپٹن سمیت سبھروال کے پاس تھا، جو کئی برس سے ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور ذاتی صدمات جیسے مسائل کا شکار تھے۔رپورٹس کے مطابق کیپٹن سبھروال نے ماضی میں کئی مرتبہ طبی رخصتیں بھی لی تھیں، یہاں تک کہ وہ اپنے والد کی دیکھ بھال کے لیے ریٹائرمنٹ پر غور کر رہے تھے۔ اس کے باوجود ایئر انڈیا نے 2023 میں انہیں میڈیکل کلیئرنس دے کر دوبارہ پرواز کی اجازت دی، جو ایئر لائن کی انتظامی غفلت کو بے نقاب کرتی ہے۔حادثے سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں، جسے بھارتی حکومت اور ایئر انڈیا نے شائع کرنے سے روکے رکھا، پائلٹ کی ذہنی صحت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم نیویارک پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کی ممکنہ وجہ ایندھن بند کرنے والے بٹن کو غلطی سے دبانا قرار دیا گیا ہے۔
ایئر انڈیا کے سی ای او کیمپبل ولسن نے ان رپورٹس کو افواہیں اور سنسنی خیز قرار دے کر مسترد کیا، جب کہ انڈین کمرشل پائلٹس ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی نے پائلٹ کی ذاتی حالت اور دماغی کیفیت کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ 12 جون کو احمد آباد میں پیش آیا، جس میں 270 افراد ہلاک ہوئے۔ تاحال ایئر انڈیا کی جانب سے پائلٹ کی ذہنی صحت کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔یہ حادثہ ایئر انڈیا کی انتظامی نااہلی اور انسانی جانوں سے لاپرواہی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جس نے فضائی سفر کی سیکیورٹی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔