ایڈیشنل انویسٹی گیشن افسر شہزادہ سلطان چیئرمین مقرر، اسسٹنٹ انسپکٹر رانا معصوم رکن ہوں گے
لاہور (آئی این پی ) حکومت پنجاب نے پنجاب پولیس کے پولیس ٹریننگ کالج لاہور کے اکائو نٹس میں مبینہ بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور خردبرد کی تحقیقات کے لئے یک اعلی سطحی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ۔۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے ایڈیشنل انویسٹی گیشن افسر شہزادہ سلطان کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ویلفیئر اینڈ فنانس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل رانا معصوم کمیٹی کے رکن ہوں گے۔سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کے مطباق یہ پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی ایک سنگین محکمانہ کارروائی ہے، جس کے تحت ایک ڈی آئی جی رینک کے سینئر پولیس افسر سمیت ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران(ڈی ڈی او ایس) اور اکائو نٹس افسران سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ڈی ڈی اوز وہ سرکاری افسران ہوتے ہیں جنہیں سرکاری خزانے سے رقم نکلوانے اور قواعد و ضوابط کے مطابق تقسیم کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، جبکہ پی ٹی سی کمانڈنٹ کو بھی اخراجات اور مالی معاملات چلانے کیلئے ڈی ڈی او اختیارات دئیے گئے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو حکومت یہ معاملہ مزید کارروائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کو بھجوا سکتی ہے۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ڈاکٹر عارف مشتاق کی جانب سے تشکیل دی گئی داخلی آڈٹ ٹیم نے پی ٹی سی لاہور کے اکائونٹس میں مبینہ بے ضابطگیوں پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق جون 2022 سے فروری 2026 کے دوران تقریبا 10 ماہ میں 45 کروڑ روپے کی مبینہ خردبرد سامنے آئی۔ آڈٹ ٹیم کی سربراہی پنجاب ہائی ویز پٹرول کے ڈی آئی جی راجا فیصلہ نے کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو یہ اہم ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ داخلی آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں متعلقہ کمانڈنٹ کے کردار کا تعین کرے۔آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسٹاک اور ریکارڈ کیپنگ سے متعلق متعدد بل مبینہ طور پر غائب پائے گئے، جبکہ لیجرز، خرید و فروخت اور دیگر مالی ریکارڈ بھی درست طریقے سے برقرار نہیں رکھا گیا۔کمیٹی پیپرا قوانین کی مبینہ کھلی خلاف ورزیوں کا بھی جائزہ لے گی، جن کے تحت پسندیدہ ٹھیکیداروں کو ٹینڈرز دیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ پنی رپورٹ میں اس حوالے سے متعلقہ افسران پر مالی نقصان کی ذمہ داری عائد کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔