پاکستان کی ترقی پروپیگنڈے‘جعلی خبروں اور دہشت گردی سے نہیں روکی جا سکتی فیلڈ مارشل

 دشمن قوتیں ریاست کی مضبوطی اور عوام کے اتحاد کے باعث بالآخر ناکام ہوں گی ‘ مسلح افواج عوام کی حمایت سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، پائیدار ترقی عوام دوست حکمتِ عملی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے ساتھ موثر سکیورٹی اقدامات سے مشروط ہے
 بلوچستان میں سکیورٹی اقدامات کے ساتھ حکمرانی اور ترقی اہمیت رکھتی ہے، افسر بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں کا موثر جواب دینے کے لئے   اپنی اور اپنے جوانوں کی مسلسل تربیت یقینی بنائیں: کوئٹہ گیریژن میں زیر تربیت افسروں اور اساتذہ سے خطاب
راولپنڈی( آئی این  پی )چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے  پاکستان کی ترقی کا سفر پروپیگنڈا، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی سے نہیں روکا جا سکتا، مسلح افواج عوام کی حمایت سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، پائیدار ترقی عوام دوست حکمتِ عملی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے ساتھ موثر سکیورٹی اقدامات سے مشروط ہے۔پاک فو ج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق  چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے اعلی تربیتی معیار، فکری استعداد اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں زیر تربیت افسران اور اساتذہ سے خطاب کیا اور جدید جنگ کے تیزی سے بدلتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ افسران بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں کا موثر جواب دینے کے لئے   اپنی اور اپنے جوانوں کی مسلسل تربیت یقینی بنائیں، افسران پیشہ ورانہ مہارت، تیاری اور آپریشنل برتری کے اعلی ترین معیار کو برقرار رکھیں۔انہوں نے کہا کہ کالج کے فارغ التحصیل افسران اپنی غیر معمولی کارکردگی اور پیشہ ورانہ لگن کے باعث ہمیشہ نمایاں رہے ہیں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور عروج کو پروپیگنڈے، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا، پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والی دشمن قوتیں ناکام ہوں گی، دشمن قوتیں ریاست کی مضبوطی اور عوام کے اتحاد کے باعث بالآخر ناکام ہوں گی۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ پائیدار ترقی عوام دوست حکمتِ عملی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے ساتھ مور سکیورٹی اقدامات سے مشروط ہے