برطانیہ میں گردن توڑ بخار کا بحران: 2 طالب علم ہلاک،متعدد وائرس میں مبتلا

برطانیہ میں گردن توڑ بخار کا بحران: 2 طالب علم ہلاک،متعدد وائرس میں مبتلا

برطانیہ میں گردن توڑ بخار سے 2 طالب علموں کی ہلاکت اور لاتعداد کے وائرس میں مبتلا ہونے پر کھلبلی مچ گئی۔

 رپورٹ کے مطابق اس وائرس کے حملے میں اب تک دو طالب علم ہلاک ہو چکے ہیں اور سینکڑوں دیگر وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں، خاص طور پر کینٹ یونیورسٹی میں جہاں تقریباً پانچ ہزار طلبہ کو فوری طور پر ویکسین دی جا رہی ہے۔یہ وائرس اب ایک اور یونیورسٹی تک بھی پھیلنے کی اطلاعات ہیں، جس سے طلبہ اور والدین میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ برطانوی محکمۂ صحت نے فوری اقدامات کے طور پر انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے اور ویکسی نیشن مہم کا آغاز کیا ہے۔ یونیورسٹی حکام نے قریبی رابطوں میں شامل افراد کو فوری طور پر آگاہ کیا تاکہ وہ احتیاطی طور پر اینٹی بایوٹکس استعمال کریں۔متاثرہ طلبہ میں کینٹ یونیورسٹی کے ایک طالب علم اور فاورشام میں کوئین الزبتھ گرامر اسکول کے 18 سالہ طالب علم شامل ہیں، جو گردن توڑ بخار کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

 مزید براڈ اسٹیئرز کے دیگر اسکولز جیسے ڈین کورٹ گرامر اسکول، سائمن لینگٹن گرامر اسکول، کینٹربری اکیڈمی، ہائی ورتھ گرامر اسکول اور نورٹن ناچبل اسکول میں بھی متاثرہ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKHSA) نے طالب علموں، والدین اور تعلیمی اداروں کو الرٹ جاری کیا ہے اور تاکید کی ہے کہ احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، ویکسینیشن مکمل کی جائے اور علامات ظاہر ہونے پر فوری علاج شروع کیا جائے۔اس صورتحال سے طلبہ کی صحت اور تعلیمی سرگرمیوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے، اور حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بروقت ویکسین اور اینٹی بایوٹک استعمال سے مزید اموات اور انفیکشن کو روکا جا سکتا ہے۔