اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی پریس کانفرنس کے دوران سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ عید کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کو حتمی شکل دی جائے گی اور بلوچستان میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بھی منعقد کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اے پی سی کی ذمہ داری لطیف کھوسہ کو دی گئی ہے اور جماعت اسلامی کو دعوت دیں گے کہ وہ اے پی سی ہمارے پلیٹ فارم سے کریں۔اسد قیصر نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزراء کی فوج بھرتی کی گئی ہے اور حکومتی سنجیدگی کا حال یہ ہے کہ سوالات شروع ہوتے ہی اجلاس ختم کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں اور اس میں عوام کے مفاد میں کسی قانون سازی کا فقدان ہے۔اسد قیصر نے قومی سلامتی کے اجلاس پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے، جبکہ پارٹی کے سینکڑوں ورکرز مختلف جیلوں میں ہیں اور ان کے خلاف مزید کیس بنائے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل نے کہا کہ ن لیگ پارلیمنٹ کو ایک ربڑ اسٹیمپ کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور پی ٹی آئی کے ساتھ فسطائیت برتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔بیرسٹر گوہر نے پارٹی کے ڈسپلن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شیر افضل کی قربانیوں کا اعتراف کیا گیا ہے اور انہوں نے ہمیشہ ڈسپلن کی اہمیت پر زور دیا۔