12، 13 اور 14 مارچ کو بسنت کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی

12، 13 اور 14 مارچ کو بسنت کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں 12، 13 اور 14 مارچ کو بسنت منانے کے انتظامات کو حتمی شکل دینا شروع کردی ہے۔

 اس سلسلے میں ہوم سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں بسنت کے دوران سکیورٹی، انتظامی امور اور دیگر ضروری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، سٹی ٹریفک پولیس، ڈی آئی جی لاہور، ایل ڈی اے، پی ایچ اے اور واسا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بسنت کے تین روزہ پروگرام کے لیے مختلف محکموں کی ذمہ داریوں اور انتظامات پر غور کیا گیا۔

پتنگ اور ڈور کی تیاری کے لیے حکومتی اجازت لازمی
ہوم سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پتنگ اور ڈور بنانے کی اجازت حکومت سے حاصل کرنے کے طریقہ کار پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ پتنگ سازی اور ڈور کی تیاری سے متعلق تمام معاملات مقررہ قوانین اور حکومتی ضوابط کے مطابق ہوں تاکہ بسنت کے دوران شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

پتنگ بازوں سے اجلاس کرنے کی ہدایت
ہوم سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو پتنگ بازوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔اجلاس میں بسنت کے دوران شہریوں کی شرکت، پتنگ بازی کے مقامات، انتظامی نگرانی اور حفاظتی اقدامات سے متعلق تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

ڈی سی لاہور کو بسنت پلان تیار کرنے کا حکم
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے ڈی سی لاہور کو بسنت کے حوالے سے جامع پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پلان میں مختلف سرکاری محکموں کی ذمہ داریاں، ٹریفک مینجمنٹ، صفائی ستھرائی، نکاسی آب، شہری سہولتوں اور سکیورٹی انتظامات کو شامل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق بسنت کے موقع پر لاہور میں شہریوں کی بڑی تعداد کی ممکنہ شرکت کے پیش نظر مختلف اداروں کو باہمی رابطے کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مختلف محکموں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں گی
اجلاس میں شریک ایل ڈی اے، پی ایچ اے اور واسا سمیت دیگر اداروں کے حکام بسنت کے دوران شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے اور شہر میں انتظامی امور بہتر رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے، جبکہ ٹریفک پولیس کو ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کرنا ہوں گے۔حکومت کی جانب سے بسنت کے حوالے سے حتمی قواعد و ضوابط اور دیگر تفصیلات بھی متعلقہ محکموں کے پلان میں شامل کیے جائیں گے۔