محمد ندیم بھٹی
چینی پاکستان میں کبھی عام گھریلو اشیاء میں شمار کی جاتی تھی، جو ہر باورچی خانے میں دستیاب رھتی تھی۔ لیکن آج یہ معمولی چیز نہیں رھی، بلکہ ایک ایسا قیمتی سامان بن چکی ھے جو متوسط طبقے کے بجٹ کو بری طرح متاثر کر رھی ھے۔ 80 روپے سے 190 روپے فی کلو تک چینی کی قیمت کا سفر ایک سادہ معاشی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ پالیسی کی کمزوری، کاروباری مفادات کی بالادستی اور حکومتی نااہلی کا عکاس ھے۔ سوال یہ ھے کہ جب گنا پیدا ھو رھا ھے، شوگر ملز چل رھی ھیں، تو پھر عوام چینی کے لیے کیوں ترس رھے ھیں؟ اور آخر یہ بحران بار بار کیوں پیدا ھوتا ھے؟
گزشتہ کچھ مہینوں میں چینی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ھے۔ ابتدا میں قیمتوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا، لیکن پھر اچانک قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ھوا، حتیٰ کہ چینی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ھوتی گئی۔ ایک طرف چینی کی قلت پیدا کی گئی، دوسری طرف مہنگائی کا طوفان کھڑا کیا گیا۔ یہ سب کسی اتفاقی یا فطری صورتحال کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ منظم سازش محسوس ھوتی ھے، جس میں حکومتی ادارے، شوگر ملز مالکان اور برآمداتی لابی برابر کے شریک ھیں۔
پہلا سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ جب پاکستان میں گنے کی فصل اچھی ھوئی، پیداواری تخمینہ بھی تسلی بخش تھا، تو پھر بحران کیوں آیا؟ اس سوال کا جواب ہمیں اس وقت ملتا ھے جب ہم چینی کی برآمدات کے اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ھیں۔ رواں سال حکومت نے چینی کی بڑی مقدار برآمد کرنے کی اجازت دی، حالانکہ ملکی ضروریات کا واضح اندازہ موجود تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کے اندر چینی کی سپلائی میں کمی آئی اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ چینی کا بحران پیدا ھوا ھے۔ ماضی میں بھی اسی طرح کا منظرنامہ دیکھنے کو ملا ھے۔ پہلے برآمدات کی اجازت دی جاتی ھے، پھر جب ملک میں قلت پیدا ھوتی ھے تو درآمد کی راہ کھولی جاتی ھے۔ اور وھی چینی جو پہلے کم قیمت پر برآمد کی گئی تھی، اب مہنگے داموں واپس خریدی جاتی ھے۔ اس دو طرفہ کھیل میں نقصان صرف عوام کا ھوتا ھے، جبکہ فائدہ مخصوص طبقات کا مقدر بن جاتا ھے۔ افسوس کی بات یہ ھے کہ حکومت اس سب کو روکنے کی بجائے خاموش تماشائی بنی رھتی ھے یا بعض اوقات اس کھیل کا حصہ بن جاتی ھے۔
چینی کا مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ پالیسی کا بھی ھے۔ ایک طرف حکومت چینی کو بنیادی اشیاء کی فہرست میں شامل کرتی ھے، دوسری طرف اسی شے کی برآمد کی اجازت دے کر عوام کو مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ھے۔ اگر واقعی پالیسی سازی میں عوامی مفاد مقدم ھوتا تو کم از کم اس وقت تک برآمد پر پابندی ھوتی جب تک کہ مقامی ضروریات پوری نہ ھو جاتیں۔ مگر یہاں تو مفاد پرست عناصر کی خوشنودی کے لیے فیصلے کیے جاتے ھیں اور عام آدمی کو مہنگائی کی چکی میں پیسا جاتا ھے۔
ذخیرہ اندوزی بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ھے۔ جب چینی کی قیمتیں بڑھنے لگتی ھیں تو مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے کے لیے
بڑے ذخائر چھپا لیے جاتے ھیں۔ گوداموں میں ٹنوں کے حساب سے چینی موجود ھوتی ھے مگر مارکیٹ میں دستیابی صفر کے برابر ھوتی ھے۔ انتظامیہ کی جانب سے چھاپے مارے جاتے ھیں، دکانیں سیل کی جاتی ھیں، لیکن وہی کھیل دوبارہ جاری رھتا ھے۔ اس کا مطلب یہ ھے کہ اصل مسئلہ نیت کا ھے، نظام کی شفافیت کا ھے، اور احتساب کے فقدان کا ھے۔
سیاسی مفادات بھی چینی کے بحران سے جڑے ھوئے ھیں۔ پاکستان کی بڑی شوگر ملز کا تعلق ان سیاستدانوں سے ھے جو یا تو خود حکومت میں ھیں یا پھر ان پر اثرانداز ھوتے ھیں۔ جب پالیسی ساز ھی کاروباری مفاد میں مبتلا ھوں تو عوام کے مسائل کون سنے گا؟ چینی کی برآمد کا فیصلہ ایک فائل پر دستخط کرنے سے نہیں ھوتا، اس کے پیچھے پورا سیاسی، تجارتی اور بیوروکریٹک نیٹ ورک موجود ھوتا ھے جو اپنے حصے کی کمائی لیتا ھے اور ملک کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیتا ھے۔
یہ بھی نوٹ کیا گیا ھے کہ جب چینی کی قیمتوں میں اضافہ ھوتا ھے تو صرف صارفین ہی متاثر نہیں ھوتے بلکہ اس کا اثر براہ راست دوسری اشیاء پر بھی پڑتا ھے۔ بیکری مصنوعات، مشروبات، کنفیکشنری، دودھ دھی، حتیٰ کہ ادویات میں استعمال ھونے والی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ھیں۔ گویا چینی کا بحران صرف ایک شے تک محدود نہیں رھتا بلکہ پوری معیشت کو متاثر کرتا ھے۔
اب سوال یہ ھے کہ اس بحران کا حل کیا ھے؟ سب سے پہلے تو چینی کی برآمد پر سخت پابندی عائد کی جائے جب تک کہ ملک کے اندر مکمل خودکفالت نہ حاصل ھو جائے۔ دوسرا قدم یہ ھونا چاہیے کہ شوگر ملز کو اپنی پیداوار اور ذخائر کی تفصیلات روزانہ کی بنیاد پر حکومتی پورٹل پر مہیا کرنے کا پابند بنایا جائے۔ تیسرا، ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ چوتھا اور سب سے اہم اقدام یہ ھے کہ چینی کی قیمت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے خودمختار اتھارٹی قائم کی جائے جو کسی بھی دباؤ کے بغیر فیصلہ کرے۔
پالیسی میں شفافیت اور مستقل مزاجی ناگزیر ھے۔ جب تک حکومت اپنے فیصلوں میں سنجیدہ نہیں ھوگی، جب تک عوامی مفادات کو ترجیح نہیں دی جائے گی، تب تک یہ بحران بار بار سر اٹھاتا رھے گا۔ چینی جیسی بنیادی ضرورت کو سیاسی یا کاروباری مفادات کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ھے جو براہ راست کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی کو متاثر کرتا ھے۔
آخر میں ایک سادہ مگر تلخ حقیقت یہ ھے کہ چینی کا بحران کسی بیرونی سازش یا فطری آفت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ہماری اپنی نااہلی، بدنیتی اور مفادات پر مبنی نظام کا عکس ھے۔ اگر اس بحران کو روکنا ھے تو ہمیں اپنا احتساب خود کرنا ھو گا۔ جب تک فیصلے صرف مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیے جاتے رھیں گے، تب تک نہ چینی سستی ھوگی اور نہ عوام کی زندگی آسان۔