30 جون تک تمام سیوریج اور ڈرینج پراجیکٹس کی ہر صورت تکمیل کا ہدف مقرر

30 جون تک تمام سیوریج اور ڈرینج پراجیکٹس کی ہر صورت تکمیل کا ہدف مقرر

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام اور سیوریج و ڈرینج منصوبوں سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

 اجلاس میں ترقیاتی کاموں کی پیش رفت، بچت کے اقدامات اور منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ای ٹینڈرنگ کے نظام کے ذریعے مجموعی طور پر 80 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے، جس سے سرکاری فنڈز کی حفاظت یقینی بنائی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ سبھی جاری منصوبے، خاص طور پر سیوریج اور ڈرینج، 30 جون تک مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے سختی سے کہا کہ گلیوں، محلوں اور سڑکوں کی کھدائی کے بعد انہیں کھلا نہ چھوڑا جائے، کیونکہ اس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں 8,38,555 مین ہولز کی جیو ٹیگنگ مکمل ہو چکی ہے اور مختلف شہروں میں 3,000 سے زائد مین ہولز میں نیٹ میش نصب کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام مین ہولز میں جلد از جلد نیٹ میش نصب کیے جائیں اور اس عمل میں تاجر برادری اور سول سوسائٹی کو شامل کیا جائے۔

مزید یہ کہ، پنجاب کے 41 شہروں میں پہلی بار ڈرین نالوں اور سیوریج لائنوں کی ڈی سلٹنگ مکمل کی گئی ہے، جس کے دوران 550 ٹن سلٹ اور گارا نکالا گیا۔ 2 لاکھ مین ہولز پر کور اور نئے ڈھکن بھی نصب کیے گئے ہیں۔بریفنگ سے معلوم ہوا کہ مختلف شہروں میں 91 جیٹنگ اور سکشن مشینیں، 77 ڈی سلٹنگ مشینیں اور 100 ڈی واٹرنگ سیٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔ 51 شہروں میں 26,100 لاگت کے ترقیاتی منصوبے مکمل ہونے کے قریب ہیں۔اسی طرح، بارشی پانی کے 196 کلومیٹر طویل ڈرین سسٹم اور 3,497 کلومیٹر سیور لائنوں کی صفائی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوں اور معیار کو بھی یقینی بنایا جائے۔