عالمی تیل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔
جمعہ کے روز معمولی اضافے کے باوجود برینٹ خام تیل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) ہفتہ وار بنیادوں پر نمایاں کمی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 66 سینٹ اضافے کے بعد 80.38 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 94 سینٹ اضافے کے ساتھ 77.54 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ تاہم مجموعی طور پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں ہفتے کے دوران تقریباً 8 فیصد کمی ریکارڈ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی (سیز فائر) کے بعد تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات کم ہوئے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ پر دباؤ میں کمی آئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد کسی حد تک بحال ہوا۔ اس پیش رفت نے تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئی شرائط متعارف کرانے کی اطلاعات نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رکھی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے شپنگ کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گزرگاہ کے استعمال کے لیے ایرانی ریولوشنری گارڈز کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی یقینی بنائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس اہم بحری راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی توانائی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔توانائی کے شعبے کے ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت بھی مارکیٹ کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اگر دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آتی ہے اور ایرانی تیل کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہوتا ہے تو عالمی منڈی میں تقریباً 85 ملین بیرل اضافی تیل دستیاب ہو سکتا ہے، جس سے سپلائی بڑھنے اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی سطح پر سپلائی کا نظام معمول پر آ جاتا ہے اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی برقرار رہتی ہے تو آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 60 سے 65 ڈالر فی بیرل کی سطح تک بھی گر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ مختصر مدت میں قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم مجموعی رجحان اب بھی کمی کی جانب اشارہ کر رہا ہے اور جغرافیائی سیاسی حالات، ایران سے متعلق پیش رفت اور عالمی سپلائی کے عوامل آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔