عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا، جس کی سب سے اہم وجہ ایران اور قطر کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی امید ہے۔
سرمایہ کاروں کو یقین ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں کم ہوں گی۔برینٹ کروڈ فیوچرز 41 سینٹ یعنی 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 87.40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 37 سینٹ یعنی 0.5 فیصد کمی کے بعد 81.80 ڈالر فی بیرل میں ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ مسلسل چوتھے روز برینٹ اور پانچویں روز WTI میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری طرف، اماراتی مربن خام تیل 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ 93.77 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری ہے۔ایرانی ذرائع کے مطابق، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے معاہدے کی تفصیلات حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی کہا تھا کہ دونوں ممالک نے اہم آبی گزرگاہ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے حوالے سے اتفاق کیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شامل ہے، جس سے جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل اور قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے کو بند کرنے کی کوششوں کے بعد شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً ایک چوتھائی رہ گئی ہے۔
اداروں کے مطابق، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے امکانات میں بہتری کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا ہے، مگر مارکیٹ میں قلت کے خدشات اب بھی موجود ہیں۔ قطر کے وزیراعظم جمعرات کو ایران کا دورہ کریں گے، جہاں تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کیے جانے کی توقع ہے۔ امریکہ بھی تقریباً ایک ماہ سے ایران کے خلاف حملے روک رکھے ہوئے ہے اور ایران پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے خلیجی خطے میں توانائی کی ترسیل میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔
تاہم، فریقین کے مطالبات میں اب بھی نمایاں اختلاف موجود ہے۔ ایران نے خلیج اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر اس اہم گزرگاہ پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جون میں طے پانے والا مگر بعد میں ختم ہونے والا عبوری جنگ بندی معاہدہ مکمل ہونے تک آبنائے ہرمز کو بند کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق، ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ اب بھی اہم ہے، اور اس کا فوری حل مشکل ہے۔ اس صورتحال کے باعث، آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے اور خام تیل کی قیمتوں میں جنگی رسک پریمیم شامل رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ اور روس-یوکرین جنگ کے اثرات کے سبب عالمی ڈیزل مارکیٹ بھی دباؤ میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے، اور یوکرین کے حملوں کے نتیجے میں روس کی متعدد ریفائنریوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر ڈیزل برآمدات میں کمی آئی ہے۔ امریکی انرجی انسٹیٹیوشن کے مطابق، 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران، امریکہ میں ڈیزل اور ہیٹنگ آئل سمیت دیگر ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر 22 لاکھ بیرل کم ہو کر 10 کروڑ 34 لاکھ بیرل رہ گئے، جو اس سال کے اس وقت کے کم ترین سطح ہے۔