امت کا ابراہیم کہاں۔۔۔۔۔؟

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
میرا کام توصرف تجزیہ کرناہے جبکہ یہ ساری سوالات توان مقتدرحضرات سے پوچھنے چاہئیں اوران کابھی فرض بنتا ہے کہ قوم کواعتمادمیں لیاجائے۔تاہم جہاں تک میراسیاسی تجزیہ کاتعلق ہے تواس کامختصر جواب تویہ ہے کہ براہِ راست نہیں؛بالواسطہ اورمشترکہ سفارتی/قانونی راستوں سے کچھ حدتک اثراندازہوسکتاہیمگرفیصلہ کن سنجیدہ اثر کیلئے بڑی طاقتوں اورعلاقائی اتحاد کی ہم آہنگی ضروری ہے۔پاکستان براہِ راست اس لئے جواب نہیں دے سکتاکہ پاکستان اوراسرائیل کے سفارتی تعلقات/تجارت نہیں؛اس لیے یکطرفہ اقتصادی یادوطرفہ دباکے اوزارمحدودہیں۔ اسرائیل کی جنگی پالیسی پربڑی طاقتوں(خصوصاامریکا)کااثرزیادہ ہے؛وہاں تک رسائی/قائل کرناکلیدی رکاوٹ ہے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت،جب تک اسرائیل پاکستان پربراہِ راست حملہ نہ کرے،پاکستان طاقت کااستعمال نہیں کر سکتا خواہ وہ ایٹمی ہویاروایتی۔جوابی طورپرعسکری دباکو"کراس تھیٹرانتقامی کارروائی"قراردیکراسرائیل کومظلوم بننے کابہانہ مل جائے گا۔(ایک محاذپرحملے کاجواب کسی اورمحاذپردینا)کوغیرقانونی جارحیت ماناجائے گا،چاہے نیت انسانی حقوق کاتحفظ ہی کیوں نہ ہو۔تاہم اسرائیل پربراہ راست حملہ کرنے کیلئے اصل قانونی پابندیوں اوررکاوٹوں کو بھی سامنے رکھناہوگا۔
طاقت کااستعمال صرف دفاع میں یااقوامِ متحدہ کی اجازت سے ہی قدم اٹھاسکتاہے۔بڑی طاقتوں کااسرائیل پراثرزیادہ ہے؛ پاکستان اکیلافیصلہ کن عسکری دبانہیں ڈال سکتا ۔ پاکستان کااسرائیل سے براہِ راست سرحدی یااقتصادی کنکشن نہ ہونے کے باعث جغرافیائی محدودیت بھی آڑے آتی ہیں۔ایٹمی ہتھیاروں کاکردار’’ڈیٹرنس‘‘تحفظ)دھمکی) کوروکنے کیلئے ہیں، عملی جنگی کارروائی کیلئے نہیں،خاص طورپرانسانی بحران کے معاملات میں یہ ممکن نہیں۔اگرایساہوتاتوسوویت یونین  اپنی شکست اورملک کوٹوٹنے سے بچانے کیلئے  افغانستان میں ایٹمی جنگ سے کبھی دریغ نہ کرتااوریہی معاملہ امریکا کیلئے افغانستان میں پیش آیااوردنیا کی سب بڑی قوت ہونے کے باوجودوہ براہ راست افغانستان میں ہیروشیمااورناگاساکی والی غلطی دہرانہ سکاجبکہ ٹرمپ نے اپنے دورِحکومت میں’’بموں کی ماں‘‘جیساخطرناک بم استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا۔
ان حالات میں پھرپاکستان کیاکرسکتاہے؟اب سعودی عرب کے وزیرخارجہ کے قطعی بیان کے بعدوہ دوریاستی حل کے علاوہ کبھی بھی اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گا،اب ضروری ہوگیاہے کہ پاکستان فوری طورپراوآئی سی کااجلاس طلب کرکے وہاں پاک بھارت میں اسرائیل کے کردارکاذکرکرکے اسلامی ملکوں کے اتحادکیلئے سعودی عرب کے تعاون سے ترکی،ایران اورملائشیاسے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کی داغ بیل ڈالے اوربعد ازاں دیگرممالک کوبھی شامل کیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی سلامتی کونسل نے2024میں رمضان سیزفائرکیلئے قرارداد2728منظورکی تھی؛بعد ازاں اوربھی کئی قراردادیں منظور ہوئیں ہیں۔پاکستان ان فورمزپرقراردادوں کے نفاذکامطالبہ بڑھاسکتاہے۔ اسلامی تعاون تنظیم یادیگربلاکس میں مشترکہ اقتصادی/سیاسی دباکے اقدامات کرسکتاہے اورعالمی میڈیاوسول سوسائٹی کی سطح پرنام اورشرم حکمتِ عملی استعمال کرسکتاہے۔بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے جاری کیسزمیں مداخلت یاشواہدفراہم کرسکتاہے،بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی قانونی جہت اورفیصلے کوہائی لائٹ کرنے کیلئے آئی سی جے نے26جنوری،28مارچ اور24مئی2024کوعبوری احکامات جاری کیے(جن میں رفح آپریشن روکنے/تحفظی اقدامات کی ہدایات شامل ہیں،ان کی تعمیل کیلئے عالمی دبا ؤبڑھاسکتاہے۔  
متعدد یورپی ممالک نے فلسطین کوسفارتی طورپرتسلیم کرنے کااعلان کردیاہے۔پاکستان،سعودی عرب،ترکی اورملائشیا بھی اسی نوع کی قانونی شمولیت یاحمایتی مہم کے ذریعے کیس کی سیاسی واخلاقی وزن بڑھاسکتے ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم،عرب واسلامی سربراہی عمل مشترکہ قراردادیں،تحقیقات کی حمایت،اسلحہ کی برآمدات پرقدغن اورامدادی راستوں کی ضمانت یہ سب اجتماعی طورپرمؤثرہوسکتے ہیں۔ ترکی،مصر،قطروغیرہ کی جاری ثالثی کوششوں کی مدد؛یورپی یونین وبرطانیہ میں رائے عامہ اورپارلیمانی مباحث میں شرکت/لابنگ۔حالیہ دنوں میں بھی یورپی سطح پرغزہ کے انسانی بحران پرسخت بیانات آئے ہیں۔دوطرفہ وکثیرالجہتی سفارتکاری شروع کرتے ہوئے اسرائیل کولگام ڈالی جاسکتی ہے۔ 
مہاجرین/زخمیوں کیلئے امداد، میڈیاوسول سوسائٹی کی مہمیں،اورعالمی کمپنیوں پراصولی اپیلیںیہ سب براہِ راست بندوقیں خاموش نہیں کرتیں مگرسیاسی لاگت بڑھاتی ہیں۔اس کیلئے عوامی،اخلاقی اورانسانی امدادکادبابڑھانے کی ضرورت ہے۔ زمینی حقیقت(آج کی صورتِ حال کی جھلک)کوتمام مسلم ممالک اپنے میڈیاکے ذریعے بین الاقوامی طورپررسائی حاصل کرتے ہوئے حقائق ان کے سامنے رکھیں کہ لڑائی جاری رہنے اورغزہ سٹی/رفح جیسے علاقوں میں کارروائی کے منصوبوں پردنیابھرسے مزاحمت سامنے آرہی ہے؛اقوامِ متحدہ،یورپی ومسلم ممالک کی سطح پرغیرمعمولی تشویش برقرارہے۔پاکستان نے بھی کھل کرمذمت کی ہے۔ 
پاکستان،چاہے ایٹمی قوت ہو،بین الاقوامی قانون کے تحت غزہ میں اسرائیل کے خلاف عسکری جوابی کارروائی نہیںکرسکتااورنہ ہی پاکستان اکیلااسرائیل کوجنگ روکنے پرمجبورکرسکتاہے۔البتہ وہ سفارتی، قانونی،اقتصادی اور اخلاقی ذرائع سے جنگ رکوانے میں بالواسطہ اثراندازہوسکتاہے۔اصل مثردباتب ہوگاجب غیرجانبدارطاقتوں،بڑی
طاقتوں،اوراوآئی سی کی مشترکہ کوششیں ہم آہنگ ہوں؛اورقانونی فورمزسلامتی کونسل/اقوامِ متحدہ،عرب واسلامی بلاک اوردوطرفہ سفارت کاری کے باہم جڑے طریقوں سے دبابڑھانے میں بامعنی کرداراداکرسکتاہیخاص طورپر جب یہ کوششیں ایسے ممالک کے ساتھ ہم آہنگ ہوں جن کااسرائیل پراصل اثرورسوخ ہے۔ 
آج،فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:یاتوہم تاریخ کے حاشیے پرکمزورالفاظ کی صورت رہ جائیں،یااپنی یکجہتی،قانون،سفارت اورایمان کے ذریعے ایک ایساباب رقم کریں جوآنے والی نسلوں کویہ یقین دے کہ ہم نے ظلم کوصرف دیکھانہیں،اس کے خلاف کھڑے بھی ہوئے۔ایٹمی قوت صرف بارودکانام نہیں،یہ ایک ذمہ داری ہے ،کمزورکاسہارابننے کی،انصاف کاعلم بلندکرنے کی۔اگرہم آج بھی نہ جاگے توکل کے مرخ لکھیں گے:جب غزہ جل رہاتھا،پاکستان خاموش تھااوریہ سطر،ہماری پوری صدی کوشرمندہ کردے گی۔
یہ وقت محض ماتم کانہیں،مشورے اورعمل کاہے۔یہ وقت مسلک اورقومیت کے پردے پھاڑکر،ایک امت بننے کاہے۔یہ وقت ہے کہ ہم ایک ایسی اسلامک سمٹ کانفرنس کاانعقاد کریں جوزبانی بیانات نہیں،عملی حکمتِ عملی دے؛جومحض تصویروں کی نمائش نہیں،بلکہ فیصلوں کی بازگشت ہو؛جوامت کوایک جھنڈے تلے،ایک صف میں کھڑاکردے۔یہ کانفرنس اس لیے ناگزیرہے کہ بیت المقدس کی فصیلیں ہمیں پکاررہی ہیں،غزہ کی زمین لہومیں نہا کرکہہ رہی ہے’’امت کہاں ہے‘‘۔
کشمیر کی وادیاں چیخ رہی ہیں،برماکے جلے ہوئے گاؤں گواہی دے رہے ہیں،اورافریقاکے قحط زدہ مسلمان ہمارے ضمیرکو جھنجھوڑ رہے ہیں۔امت کے ابراہیم کی تلاش کامطلب ایک شخص نہیں،بلکہ وہ روح ہے جوہرمسلمان کے دل میں بیدارہو،تاکہ ہم سب مل کروہ قدم اٹھائیں جوملت کوغلامی کے اندھیروں سے نکال کرعزت کی روشنی میں لے آئے۔
٭آہم اس عہد کی تجدیدکریں کہ جب تک امت کاہرفرد،ہربستی،ہرملک ایک دوسرے کاسہارانہیں بن جاتاہم نہ بیٹھیں گے،نہ جھکیں گے،نہ بکیں گے۔
٭آہم اپنے رب سے عہدکریں کہ ہم اس امت کے ابراہیم بنیں گے،اورطاغوت کے ہربت کوپاش پاش کردیں گے۔
٭آج،یہاں،اس مجلس میںہم عہدکریں کہ ہم امت کے ابراہیم بنیں گے۔ہم وہ امت ہیں جوکبھی شکست تسلیم نہیں کرتی،جواپنے بچوں کوقرآن اورشمشیردونوں کاوارث بناتی ہے،جواپنے خوابوں کوخون سے سینچتی ہے۔ہم طاغوت کے ہربت کوتوڑیں گے،چاہے وہ طاقت کاہویاجھوٹ کا۔ہم ہراس باطل قوت کوللکاریں گے جواللہ کے دین کومٹاناچاہتی
 ہے۔
٭ہم اپنے مسلک،اپنی زبان،اپنی نسل کے حصارتوڑکرایک امت کی صورت میں اٹھیں گے۔ہم وہ آوازبنیں گے جونہ دبائی جاسکے،وہ ہاتھ بنیں گے جواللہ کے سواکسی کے آگے نہ پھیلیں،وہ دل بنیں گے جونہ بکیں۔
٭اے اللہ ہماری غفلت کوبیداری میں بدل دے،ہمارے کمزورہاتھوں میں اسلام کی نصرت کالوہابھردے۔
٭ہمیں ابراہیم کاحوصلہ،اسمعیل کی قربانی کاجذبہ،موسی کی جرات اورللکاردے،اورمحمدﷺکی رحمت اورسیرت عطافرما۔ہمارے دلوں کوایمان کے نورسے بھردے،ہماری صفوں کویکجان کردے۔ہمیں عمرکی غیرت دے ، علی المرتضی کی بصیرت دے،اورسیدنابلال کا صبرعطافرما۔
٭اے اللہ ہمیں ایک امت بنادے،ہمارے صفوں میں اتفاق پیداکردے،اورہمیں ظلم کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیواربنا دے۔اے اللہ ہمارے شہیدوں کے خون کو ضائع نہ ہونے دے،ہمارے شہیدوں کوجنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرما،اے اللہ ہماری ماں کے آنسواپنے عرش پرقبول فرما،ہمارے زندہ لوگوں کواپنی راہ کاسپاہی بنا،اوراس امت کووہ قیادت دے جوظلم کے ایوان ہلا دے۔
٭اے اللہ  ہمیں اس امت کابانی اورمحافظ بناجس پرفرشتے بھی فخرکریں۔آمین،یارب العالمین۔