ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ارشد مہدی جعفری
دنیا بدل رہی ہے۔ ہتھیاروں کے نقوش بدل چکے ہیں، اور اب جنگ صرف بارود یا بندوق سے نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، ڈرون، الیکٹرانک وارفیئر اور راڈار سے بچاؤ کی صلاحیت سے لڑی جا رہی ہے۔ میدانِ جنگ کے خدوخال میں نئی لکیریں کھنچ رہی ہیں اور اْن کے گرد تیاریاں تیزی سے ہو رہی ہیں۔ کہیں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے، کہیں ہائبرڈ وار کے نقشے بن رہے ہیں، اور کہیں نئی جنگی اتحاد جنم لے رہے ہیں۔
جرمنی میں ایئربس، کریٹوس اور رائن میٹل جیسے صنعتی جنات طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز پر کام کر رہے ہیں۔ لتھوانیا جیسے چھوٹے ملک نے یوکرین کے لیے پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کے لیے 3 کروڑ یورو کا عطیہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولینڈ روس کے خوف سے 2026 تک اپنی جی ڈی پی کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرے گا، اور امریکہ سے 15 ارب ڈالر کے ہتھیار خریدنے کا معاہدہ کر چکا ہے۔ چین خلیج تائیوان میں اپنی فضائی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے مابین سرحدی کشیدگی میں یوکرینی بکتر بند گاڑیاں شامل ہو چکی ہیں۔ ترکی اور انڈونیشیا کے درمیان دس ارب ڈالر کا پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کا معاہدہ ہو چکا ہے، ترکی الیکٹرو میگنیٹک-لیزر ہتھیار "الکا-کپلن" کے ذریعے ڈرونز کو تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ بھارت اپنی میزائل ٹیکنالوجی میں نئی سطحوں پر پہنچ چکا ہے، اور ایران بین الاقوامی پابندیوں کو مات دیتے ہوئے پانچ بوئنگ 777 طیارے خفیہ طریقوں سے اپنے بیڑے میں شامل کر چکا ہے۔
ادھر پاکستان بھی خاموش نہیں رہا۔ گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا تیار کردہ "تیمور" کروز میزائل جدید رہنمائی کے نظام، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور طویل فاصلے کی صلاحیت کے ساتھ خطے میں ایک متوازن قوت کا پیغام بن چکا ہے۔ JF-17 تھنڈر پر نصب ہونے والا یہ میزائل دشمن کے ایئر ڈیفنس نظام کو چکمہ دے کر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ پاکستان کی فضائی صلاحیت میں ایک سنگِ میل ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تمام تیاری کس کے لیے ہے؟ کیا ہم نے اپنی جنگی حکمتِ عملی کو عوامی فلاح اور قومی استحکام کے تابع کر دیا ہے یا صرف دکھاوے اور عالمی منظرنامے پر چند لمحاتی واہ واہ کے لیے ان پراجیکٹس کو اجاگر کر رہے ہیں؟
کیونکہ دوسری طرف تصویر کا ایک ایسا رخ بھی ہے جسے دیکھنے کے بعد دل اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ 
ذرائع کے مطابق" یا "بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق" کہنے والے حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ 23 جولائی کی شب مسقط میں اترنے والا گلف اسٹریم G-550 طیارہ مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ایک سینئر افسر، کرنل اییال فروسٹ، کو لے کر آیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہی شخصیت ’آپریشن بادیہ گرگ‘ کی منصوبہ بندی کے مرکزی کرداروں میں شامل ہے، اور اس کے حالیہ دورے کا مقصد دوحہ میں بلوچستان سے متعلق شورش کے ایک نئے فیز کی ترتیب دینا تھا۔ ایسی بھی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ اسرائیلی اسلحہ، جدید لیزر سسٹمز، بارودی جیکٹس اور ڈرونز کی ایک نئی کھیپ بلوچستان میں داخل ہونے کے لیے تیار کی جا چکی ہے۔ ادھر اسرائیلی تھنک ٹینک، خصوصاً میمری، ’بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ‘ جیسے عنوانات کے تحت پاکستان کے خلاف ایک نیا بیانیہ تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
اور ہم کیا کر رہے ہیں؟
ہم محض اندرونی خلفشار میں الجھے ہوئے ہیں۔ کبھی سیاسی جوڑ توڑ، کبھی وزارتوں کی بندربانٹ، کبھی مفاد پرستانہ فیصلے اور کبھی ناقابلِ فہم بیانات۔ وہ سیاستدان جو خود کو قومی لیڈر کہتے ہیں، ان کے کاروبار بیرونِ ملک، جائیدادیں محفوظ اور نظریہ مفاد پر مبنی ہے۔ ریاستی وسائل چند خاندانوں کی بقا کے لیے وقف ہو چکے ہیں۔
اسی پس منظر میں محسن نقوی جیسے کردار سامنے آتے ہیں۔ کبھی وہ یہ کہہ کر حیران کرتے ہیں کہ "بلوچستان تو ایک ایس ایچ او کی مار ہے"، اور اب اعلان کیا جا رہا ہے کہ عراق میں چہلم کے لیے جانے والے زائرین کو بائی روڈ سفر سے روکا جائے گا، کیونکہ پاکستان سے روانگی محفوظ نہیں۔ یعنی، زمینی راستے سے جانے والوں کی زندگی کی ضمانت نہیں، ایئرلائنز کا راستہ ہی واحد آپشن بچا ہے۔
یہ کون سی ریاستی پالیسی ہے؟ کیا ہم واقعی اپنی سیکیورٹی میں اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ اپنے ہی ملک سے نکلنے والوں کو تحفظ نہیں دے سکتے؟ اور کیا ریاستی نااہلی کو عوام کی جیب پر ڈال کر، انہیں ہوائی سفر کے اخراجات میں جکڑ دینا مسئلے کا حل ہے؟ یہ فیصلہ کسی ایک مذہبی طبقے یا گروہ سے متعلق نہیں، یہ ایک ریاستی رویہ ہے، جس پر غیر جانبدار ہو کر سوال اٹھانا ضروری ہے۔
ایسا نہیں کہ ہم کسی خاص فقہ یا گروہ کے ہمدرد ہیں۔ ہمارا نقطہ? نظر صرف اتنا ہے کہ قومی پالیسیاں شخصی مفاد، مالی کمائی یا وقتی دباؤ کے تحت نہیں بننی چاہئیں۔ یہ قومی وقار، عوامی اعتماد، اور ریاستی بیانیے کے تحت بننی چاہئیں۔
کیونکہ دنیا جنگ کی تیاری کر رہی ہے۔ پولینڈ کو نیٹو نے خبردار کیا ہے کہ روس 2027 تک یورپی سرزمین پر لڑائی کے لیے تیار ہو جائے گا۔ امریکہ کے RC-135S ‘کوبرا بال’ طیارے پاکستان اور ایران کے بیلسٹک میزائلوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خلیج تائیوان پر چینی جنگی طیارے خوف کی لہر دوڑا چکے ہیں۔ موساد بلوچستان کی زمین پر اپنے پنجے گاڑنے کو تیار ہے۔ اور ہم ابھی تک اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ لوگ بائی روڈ جائیں یا بائی ایئر؟
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کریں۔ یہ وقت ہے کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ پاکستان صرف دفاعی ہتھیار بنانے والا ملک ہی نہیں بلکہ اپنے عوام، اپنی سرزمین اور اپنے بیانیے کا بھی محافظ ہے۔ بصورت دیگر، ہم عالمی منظرنامے میں محض ایک تضاد بن کر رہ جائیں گے۔ ایک طرف پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کی تیاری حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے، 'تیمور' کروز میزائل دشمن کے لیے حیرت کا باعث بن چکا ہے، لیکن دوسری طرف بلوچستان سے ایران جانے والے زائرین کے لیے محفوظ زمینی سفر کی ضمانت نہیں دی جا رہی۔ کیا یہ تضاد نہیں؟ حالیہ فیصلے کے تحت یہ طے پایا ہے کہ ان زائرین کو صرف ہوائی راستے سے سفر کی اجازت دی جائے گی، کیونکہ زمینی راستہ مبینہ طور پر محفوظ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ محرم کے تقدس میں بھی ایران اسرائیل کشیدگی کی وجہ سے اپنے مذہبی جذبات کی تسکین نہ کر سکے، وہ اب چہلم کے موقع پر ایک بار پھر سے آمادہ? سفر ہیں—تو ایسے میں ریاستی سطح پر ان کے لیے زمینی سفر بند کر دینا آخر کس منطق کے تحت کیا گیا ہے؟
اگر اس فیصلے کے خلاف ردعمل میں ان حلقوں کی جانب سے دھرنوں یا احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی، تو کیا یہ ریاست کے لیے ایک نیا بحران نہیں ہوگا؟ کیا ریاست پاکستان دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کو معمول کا حصہ سمجھنے لگی ہے؟ جہاں ایک طرف جماعت اسلامی لانگ مارچ کی تاریخ دے چکی ہے، وہیں اگر زائرین بھی سڑکوں پر نکل آئے، تو یہ نہ صرف داخلی استحکام کے لیے چیلنج ہوگا بلکہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کے وقار کو بھی مجروح کر سکتا ہے۔
یہ بات طے ہے کہ ان ممکنہ بحرانوں کی اصل وجہ عوام نہیں بلکہ وہ پالیسی ساز ہیں جو غیر سنجیدہ، عارضی اور وقتی فیصلوں کے ذریعے ملک کو داخلی اور خارجی سطح پر کمزور کر رہے ہیں۔ ریاست کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ آیا وہ صرف ایئرلائنز کی سہولت کار ہے یا ایک خود مختار، خود دار اور باوقار ریاست۔ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بیانیے سے جیتی جاتی ہے، اور بدقسمتی سے ہمارا بیانیہ اس وقت سخت بحران میں ہے۔