برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک حقیقی اور نتیجہ خیز معاہدہ چاہتے ہیں تاکہ خطے میں غیر ضروری امریکی بمباری کو روکا جا سکے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی و برطانوی حکام کی خفیہ ملاقات
برطانوی صحافی رابرٹ پیٹرسن نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے لندن میں ڈیوڈ لیمی اور برطانیہ میں تعینات امریکی سفیر سے اہم ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق:اس ملاقات میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی طرف سے ایران اسرائیل کشیدگی کم کرنے کی امیدوں کو محض ایک فریب قرار دیا گیا۔
امریکی حکام نے واضح کیا کہ وہ ایران کی جانب سے امن کی کسی بھی پیشکش پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے ہو۔
ایران کے ساتھ امن مذاکرات پر تحفظات
مارکو روبیو اور وِٹکوف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حالات میں ایرانی حکومت کی کسی ممکنہ مفاہمت یا مذاکراتی آمادگی کو غیر سنجیدہ اور وقتی چال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جنیوا میں سفارتی سرگرمیوں پر نظریں
ذرائع کے مطابق، امریکی حکام اس وقت اپنی سفارتی حکمت عملی کی امیدیں جنیوا میں جاری ان مذاکرات سے وابستہ کیے ہوئے ہیں جہاں:ایرانی وزیر خارجہ کی یورپی اور برطانوی وزرائے خارجہ سے ملاقات ہو رہی ہے۔ان ملاقاتوں کا مقصد بظاہر خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی راہیں کھوجنا ہے۔
تجزیہ
یہ پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک نئی جہت جنم لے رہی ہے، جہاں جنگی کارروائیوں کے بجائے محدود لیکن بامقصد سفارتکاری پر زور دیا جا رہا ہے — کم از کم ٹرمپ کی ممکنہ واپسی کے تناظر میں۔ دوسری طرف، برطانوی حکومت کے اندر بھی اختلافِ رائے اور شک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ آیا ایران سے مذاکرات واقعی نتیجہ خیز ثابت ہوں گے یا نہیں۔