ویب ڈیسک: ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران سے ممکنہ معاہدے کے لیے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بارے میں اپنا لہجہ تبدیل کریں۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا:"اگر صدر ٹرمپ معاہدہ چاہتے ہیں تو انہیں ہمارے سپریم لیڈر کے خلاف غیر مہذب اور توہین آمیز زبان ترک کرنا ہوگی۔"
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایرانی عوام اپنی قیادت، خودمختاری اور آزادی کے معاملے پر حساس ہیں، اور کسی بھی قسم کی توہین یا دھونس برداشت نہیں کی جائے گی۔ عراقچی نے واضح کیا:"ہم ایک مہذب قوم ہیں جو سچائی اور عزتِ نفس پر یقین رکھتی ہے۔ ہم اپنی آزادی کے لیے کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی اجازت دیں گے۔"انہوں نے اسرائیل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا:
"ہمارے میزائلوں سے بچنے کے لیے اسرائیل کے پاس صرف امریکا کی پناہ میں جانے کا راستہ بچا تھا۔"سیاسی مبصرین اس بیان کو ایران کی جانب سے ایک سخت پیغام قرار دے رہے ہیں، جو امریکا کو باور کرانا چاہتا ہے کہ اگر واشنگٹن واقعی بات چیت چاہتا ہے تو اسے تہران کے ساتھ عزت اور برابری کی بنیاد پر پیش آنا ہوگا۔یہ پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر ہے اور ایران کا جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور امریکا کی جانب سے عائد پابندیاں باہمی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔