ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں حزب اللّٰہ کی قیادت نے کھل کر ایران کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی حمایت یافتہ لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے واضح کیا ہے کہ یہ تنازع ان کے لیے غیرجانبدار رہنے کا موقع نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف اپنانے کا لمحہ ہے۔
شیخ نعیم قاسم کا بیان:
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق شیخ قاسم نے کہا:"ہم ایران اسرائیل تنازع میں غیرجانبدار نہیں رہ سکتے۔ ہم وہی کریں گے جو ضروری اور مناسب سمجھا جائے گا۔"انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کا بین الاقوامی، اخلاقی اور فطری حق حاصل ہے، اور یہ حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا۔
عالمی حمایت کی اپیل:
شیخ قاسم نے دنیا بھر کے آزاد انسانوں سے اپیل کی کہ وہ اس معرکے میں ایران کے ساتھ کھڑے ہوں، کیونکہ:"یہ صرف ایک ریاست کا دفاع نہیں بلکہ استقامت، آزادی اور حق کے اصولوں کا دفاع ہے۔"
اسرائیل کی شدید ردعمل:
دوسری طرف، حزب اللّٰہ کی اس پوزیشن کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع نے سخت ردعمل دیتے ہوئے لبنانی مزاحمتی تنظیم کو خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا:"حزب اللّٰہ کے رہنما ایرانی آمر کے احکامات پر چل رہے ہیں اور اسرائیل کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اگر انہوں نے جارحیت کی تو حزب اللّٰہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔"انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا صبر اب لبریز ہو چکا ہے، اور حزب اللّٰہ کو شدید نتائج بھگتنا ہوں گے اگر اس نے کوئی عسکری اقدام اٹھایا۔
پس منظر:
یاد رہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں حزب اللّٰہ نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے تنازع سے دور رہنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو قتل کی دھمکیوں کے بعد حزب اللّٰہ نے اپنا مؤقف سخت کرتے ہوئے ایران کے دفاع میں کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ:"ایرانی سپریم لیڈر کے خلاف کسی بھی کارروائی کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔"
تجزیہ:
یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی ایک وسیع جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں صرف ریاستیں ہی نہیں بلکہ ان کے حمایت یافتہ غیر ریاستی عناصر بھی کھل کر میدان میں آ سکتے ہیں۔ حزب اللّٰہ کی موجودہ پوزیشن ایران کے لیے اسٹریٹجک پشت پناہی ثابت ہو سکتی ہے، مگر اس کے نتائج پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔