ٹرمپ جنگ میں فوری شامل نہ ہونیکافیصلہ
آپریشن وعدہ صادق سوم، ایران کے اسرائیلی فوج پر حملے، اسرائیلی فوج کے یونٹ 82 ہنڈریڈ کو شدید نقصان پہنچا،تیسرا فریق جنگ میں شامل ہوا تو اسکے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو ہفتوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں براہ راست کارروائی کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مستقبل قریب میں ایران سے مذاکرات کے امکانات کے حقائق کی بنیاد پر کارروائی کے حوالے سے دو ہفتوں کے اندر میں اپنا فیصلہ کروں گا۔ترجمان نے بتایا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ سفارتی حل نکالا جائے لیکن ان کی اولین ترجیح یقینی بنانا ہے کہ ایرانی جوہری ہتھیار نہ بنائے۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ تہران کو یورینیم افزودگی سے روکنے اور ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کو روکنے کے لیے ہوگا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل پر دلچسپی رکھتے ہیں، وہ پیس میکر ہیں، وہ امن کے ذریعے مضبوط صدر ہیں، اگر سفارت کاری کے لیے کوئی موقع ہے تو پھر صدراس موقعے کو حاصل کریں گے لیکن وہ طاقت کے استعمال سے بھی کبھی خوف زدہ نہیں ہوں گے۔ایران پر حملے کے لیے کانگریس اجازت سے متعلق سوال پر لیویٹ نے کہا کہ واشنگٹن نے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب نہیں رہا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ ٹرمپ کو اسرائیل کے حملوں کے بارے میں بریفنگ کیا جاتا ہے اور ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اگر وہ جوہری ہتھیاروں پر جاری اپنا کام نہیں روکتے۔
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے آپریشن وعدہ صادق سوم کے تحت اسرائیل پر تازہ بمباری کی ہے۔ اسرائیلی فوج کیخلاف حملوں کی چودہویں لہر کی ویڈیو جاری کردی گئی۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تازہ حملے میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ اور انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے یونٹ 82 ہنڈریڈ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ساتھ ہی دنیا کو خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی تیسرا فریق جنگ میں شامل ہوا تو اسکے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔کونسل نے کہا کہ اگر بیرونی کرداروں نے تنازعہ بڑھانے کی کوشش کی تو ایران کا فوجی اور اسٹریٹیجک ردعمل فوری، متناسب اور پہلے سے طے شدہ طریقہ کے مطابق ہوگا۔کونسل نے کہا کہ ایران کا عزم ہے کہ وہ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات میں مربوط انداز سے شامل مغربی قوتوں بلخصوص امریکا کے خلاف اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔