8مقدمات کی تفصیلات عدالت پیش، 30 جون کو وکلا دلائل کیلئے طلب
اسلام آباد، لاہور (خصوصی رپورٹ ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے190 ملین پائونڈ کیس 26 جون کو سماعت کیلئے مقرر کر دیااور رجسٹرار آفس کی جانب سے باقاعدہ کاز لسٹ جاری کر دی گئی ،جس کے مطابق بانی تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر اسی روز سماعت ہو گی، قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا،عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ 17 جنوری کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو 190 ملین پائونڈ کے کیس میں سزا سنائی تھی۔ دونوں نے اپنی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ادھر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نو مئی کے آٹھ مقدمات میں درخواست ضمانتوں پر پراسیکیوشن نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔ پراسیکیوشن نے لاہور ہائیکورٹ سے درخواست ضمانتیں مسترد کرنے کی استدعا کر دی۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت سرکاری وکیل نے جناح ہائوس حملہ کیس کے حوالے سے ملزموں کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دیں۔ جسٹس شہباز رضوی نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ہم نے آپ سے پوچھا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور ضمانت پانے والے دیگر ملزموں میں فرق بتائیں۔ کیا جناح ہائوس حملہ کیس میں کسی کی ضمانت ہوئی ؟ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شیخ امتیاز محمود کو قبل از گرفتاری ضمانت ملی جبکہ زین قریشی کی ضمانت اس کیس میں خارج ہوئی۔ پراسکیوشن نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانتوں پر دلائل مکمل کر لیے جس پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے جواب الجواب د یئے ،سلمان صفدر نے کہا کہ کیا ایک فرد دوسرے کسی شخص کے عمل کا ذمہ دار ہوسکتا ہے ؟ کچھ لوگوں نے جلائو گھیرائو کیا،کچھ لوگ موقعہ پر موجود تھے، انہوں نے کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کی محبت میں آئے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے 30 جون کو فریقین وکلا کو حتمی دلائل کے لیے طلب کر لیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف آزادی مارچ کے 2 مقدمات میں سماعت ملتوی کردی۔سردار مصروف خان ایڈووکیٹ نے کہاکہ ہم نے 2 سال سے متعلقہ مقدمات میں بریت کی درخواست دائر کر رکھی ہے،ان کیسز میں اسد عمر بری ہوچکے ہیں، جبکہ علی امین گنڈا پور کی حد تک ایف آئی آر ہائیکورٹ نے ختم کردی ہے،یہ ایف آئی آر ہی جب درج ہوئی اسوقت کے رولز کے مطابق مدعی غیر متعلقہ شخص ہے،جج عباس شاہ نے کہاکہ ان کیسز میں کوئی آڈر کرتا ہوں،بعد ازاں دونوں مقدمات میں سماعت21 جولائی تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔