ویب ڈیسک: مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر امیر مقام نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف فی الوقت کوئی عملی اقدام زیر غور نہیں، تاہم مستقبل میں ایسا فیصلہ وقت اور حالات کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا:“اس وقت خیبر پختونخوا کی حکومت کو گرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن سیاست میں فیصلے وقت اور حالات کے مطابق لیے جاتے ہیں۔”
کسی جماعت سے رابطہ نہیں کیا
انہوں نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف ابھی تک کسی بھی سیاسی جماعت سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے اس بات کو خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا کہ مستقبل میں سیاسی تقاضوں کے تحت اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن سے رابطے کا عندیہ
امیر مقام نے کہا کہ:“اگر ضرورت پیش آئی تو مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کریں گے۔”یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ہے اور مرکز میں اتحادی حکومت پی ٹی آئی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔
سیاسی منظرنامے میں ہلچل
امیر مقام کے اس بیان کو سیاسی حلقے آئندہ ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کا اشارہ قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد یا ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک کے تناظر میں۔