وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور نے بگن میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے افراد کی صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ کرم میں امن معاہدے کے بعد پیش آیا جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ میں ملوث افراد کا مقصد کرم میں امن کی بحالی کی حکومتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا تھا، لیکن یہ کوششیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا نے کہا کہ کرم کے لوگ امن چاہتے ہیں اور کچھ شرپسند عناصر امن کی بحالی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کرم کے عوام سے اپیل کی کہ وہ شرپسند عناصر کی نشاندہی کریں اور حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن کی بحالی کی کوششوں کو کامیاب بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ لوئر کرم کے علاقے بگن میں فائرنگ کے دوران ڈپٹی کمشنر جاوید اللّٰہ محسود سمیت 6 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں 3 راہ گیر، ایک ایف سی اہلکار اور ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔